آروگیہ شری کے بقایا جات کی 11 ماہ سے عدم اجرائی

   

1100 کروڑ ادا شدنی ، ہاسپٹلس اسوسی ایشن کا آج سے علاج روک دینے کا فیصلہ
حیدرآباد۔9۔جنوری(سیاست نیوز) ریاستی حکومت تلنگانہ میں چلائے جانے والی صحت اسکیم ’آروگیہ شری ‘ کے بقایا جات گذشتہ 11ماہ سے ادا نہیں کرپائی ہے جس کے نتیجہ میں تلنگانہ کے خانگی اور کارپوریٹ دواخانوں کی جانب سے آروگیہ شری اسکیم کے تحت مفت علاج کو بند کرنے کا منصوبہ بنایا جا رہاہے اور کہا جار ہاہے کہ اگر حکومت کی جانب سے آروگیہ شری کے تحت موجود بقایاجات کی فوری طور پر اجرائی عمل میں لانے کے اقدامات نہیں کئے جاتے ہیں تو ایسی صورت میں اس اسکیم کے تحت مریضوں کے علاج کا سلسلہ بند کردیا جائے گا۔ تلنگانہ آروگیہ شری نیٹ ورک ہاسپٹلس اسوسیشن کے مطابق ریاستی حکومت نیٹ ورک ہاسپٹلس کو مجموعی اعتبار سے 1100 کروڑ کے بقایا جات اداشدنی ہے اور ان بقایا جات کی اجرائی کے سلسلہ میں مسلسل حکومت اور متعلقہ محکمہ سے نمائندگیاں کی جاتی رہی ہیں لیکن حکومت نے اس سلسلہ میں کوئی فیصلہ نہیں کیا اور نہ ہی 11ماہ سے ان بقایا جات کی اجرائی کے سلسلہ میں احکامات کی اجرائی عمل میں لائی گئی ہے۔ صدر اسوسیشن مسٹر وی راکیش نے بتایا کہ ریاستی حکومت اور محکمہ صحت کے رویہ کو دیکھتے ہوئے تمام ہاسپٹلس نے اس بات کا فیصلہ کیا ہے کہ 10جنوری سے آروگیہ شری کے تحت مریضوں کے مفت علاج کے سلسلہ میں بند کردیا جائے گا اور اس وقت تک آروگیہ شری خدمات کا احیاء عمل میں نہیں لایا جائے گا جب تک ریاستی حکومت کی جانب سے بقایاجات کی اجرائی عمل میں نہیں لائی جاتی۔انہو ںنے مزید کہا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے نیٹ ورک ہاسپٹلس سے جو معاہدہ کیا گیا ہے اس کے مطابق ریاستی حکومت آروگیہ شری کے تحت کئے جانے والے علاج کی رقومات اندرون 45 یوم دواخانوں کو جاری کرے گی لیکن گذشتہ 11ماہ یعنی 300 یوم سے زیادہ کا عرصہ گذرجانے کے باوجود یہ رقومات جاری نہیں کی گئی ہیں اور نہ ہی اس سلسلہ میں کوئی بات چیت کی جار ہی ہے اس کے باوجود دواخانوں کی جانب سے آروگیہ شری اسکیم کو جاری رکھا گیا تھا لیکن اب وصول طلب رقم 1100 کروڑ تک پہنچ جانے کے بعد دواخانوں کے انتظامیہ اتنے بھاری بوجھ کو برداشت کرنے کے متحمل نہیں ہیں اسی لئے دواخانوں کے انتظامیہ نے آروگیہ شری اسکیم کے تحت مریضوں کے علاج کو 10 جنوری سے بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ڈاکٹر وی راکیش نے بتایا کہ آروگیہ شری ٹرسٹ کے ذمہ داروں کو اس سلسلہ میں بارہا متوجہ کروایا جاچکا ہے اور ٹرسٹ کے ذمہ داروں کی جانب سے کہا جا رہاہے کہ محکمہ صحت اور حکومت تلنگانہ کی جانب سے کوئی مثبت ردعمل ظاہر نہیں کیا جا رہاہے اسی لئے وہ بقایاجات کی اجرائی کے موقف میں نہیں ہیں۔ذرائع کے مطابق تلنگانہ کے تمام خانگی اور کارپوریٹ ہاسپٹلس جہاں ’آروگیہ شری اسکیم ‘ کے تحت مفت علاج کیا جاتا تھا ان تمام دواخانوں میں 10 جنوری سے مریضوں کو اس اسکیم سے استفادہ کی سہولت کو ختم کردیا جائے گا۔3