اے آئی کے غلط استعمال کو روکنے ٹھوس منصوبہ بندی ، حکومت جلد ہی ایک اے آئی مشن شروع کرے گی : مودی
نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے منگل کو مصنوعی ذہانت اے آئی پر مبنی ٹولز کے دہشت گردوں کے ہاتھ میں جانے کے خطرے کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اے آئی کے اخلاقی استعمال کے لیے ایک عالمی فریم ورک بنانے کی ضرورت ہے۔ مصنوعی ذہانت پر عالمی شراکت داری سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے، وزیر اعظم مودی نے کہا کہ اے آئی 21ویں صدی میں ترقی کا سب سے بڑا ذریعہ بن سکتا ہے لیکن اس میں 21ویں صدی کو تباہ کرنے کی مساوی طاقت بھی ہے۔انہوں نے کہا کہ ڈیپ فیکس، سائبر سیکیورٹی اور ڈیٹا چوری کے چیلنج کے علاوہ اے آئی ٹولز کا دہشت گردوں کے ہاتھ میں آنا ایک بڑا خطرہ ہے۔ اگر اے آئی سے چلنے والے ہتھیار دہشت گرد تنظیموں تک پہنچ گئے تو عالمی سلامتی کو بڑے خطرے کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ہمیں اس پر غور کرنا ہوگا اور اے آئی کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے ٹھوس منصوبہ بندی کرنی ہوگی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ہندوستان نے جی 20 گروپ کی صدارت کی تھی، اس نے اے آئی کے لیے ایک ذمہ دار، انسانی مرکوز گورننس فریم ورک بنانے کی تجویز پیش کی تھی۔انہوں نے کہا کہ جس طرح ہمارے پاس مختلف بین الاقوامی مسائل کے لیے معاہدے اور پروٹوکول ہیں۔ اسی طرح ہمیں اے آئی کے اخلاقی استعمال کے لیے ایک عالمی فریم ورک بھی بنانا ہوگا۔ اس میں ہائی رسک اور فرنٹیئر اے آئی ٹولز کی جانچ اور تعیناتی کا پروٹوکول بھی شامل ہوگا۔ ہندوستان کو مصنوعی ذہانت کے ذمہ دارانہ اور اخلاقی استعمال کے لیے پرعزم قرار دیتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ یہ ٹیکنالوجی ہندوستان کے ٹیکنالوجی کے منظر نامے میں انقلاب لانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس کو ذہن میں رکھتے ہوئے حکومت جلد ہی ایک اے آئی مشن شروع کرے گی۔انہوں نے کہا کہ اے آئی میں صحت کی دیکھ بھال سمیت شعبوں کو تبدیل کرنے کی صلاحیت ہے اور یہ پائیدار ترقی میں بڑا کردار ادا کر سکتی ہے۔ تاہم اس حوالے سے بہت محتاط رہنا چاہیے۔ وزیراعظم نے کہا کہ اے آئی کی سمت انسانی اور جمہوری اقدار پر منحصر ہوگی۔ اے آئی پر اعتماد بڑھے گا اگر اس سے متعلق اخلاقی، معاشی اور سماجی خدشات کو دور کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیٹا محفوظ ہونے کے بعد رازداری کے خدشات دور ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں عالمی فریم ورک کو ایک مقررہ وقت کے اندر مکمل کرنا ہے۔ یہ دنیا اور انسانیت کی سلامتی اور ترقی کے لیے ضروری ہے۔اے آئی کو محفوظ اور قابل بھروسہ بنانے پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بحث اس بات پر ہونی چاہیے کہ اے آئی سے نکلنے والی معلومات کو کیسے قابل اعتماد بنایا جائے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ صرف اگراے آئی کو ہمہ جہت بنایا جائے تو اس سے زیادہ جامع نتائج برآمد ہوں گے۔ اے آئی صرف ایک نئی ٹیکنالوجی نہیں ہے، بلکہ دنیا بھر میں ایک تحریک ہے۔ ڈیٹا اور الگورتھم کا استعمال کسی بھی تعصب سے پاک ہونا چاہیے۔ اے آئی سے متعلق منفی پہلو تشویشناک ہیں۔