آسام میں 13 ماؤنوازوں کی خودسپردگی

   

گوہاٹی: کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (ماؤ نواز) کے سینئر لیڈر ارون کمار بھٹاچارجی عرف کنچن دا کے مبینہ ساتھی مانے جانے والے تیرہ ماؤ نوازوں نے ہفتہ کو آسام میں ہتھیار ڈال دیئے۔ اسپیشل ڈائرکٹر جنرل آف پولیس جی پی سنگھ نے آج ٹویٹ کیا کہ ڈبرو گڑھ اور کاچھر میں 13 ماؤنوازوں نے تشدد کا راستہ چھوڑ دیا ہے اور آج مرکزی دھارے میں شامل ہو گئے ہیں۔ بھٹاچارجی کو 6 مارچ کو کاچھر ضلع سے گرفتار کیا گیا تھا۔ پولیس نے کہا کہ تمام کیڈرز ان کے پاس ہتھیار ڈالنے کے لیے پہنچے ۔ پولیس کے مطابق، 72 سالہ بھٹاچارجی کو آسام میں سی پی آئی (ماؤسٹ) کی ریاستی سطح کی کمیٹی قائم کرنے اور پڑوسی ملک اور ماؤنوازوں کے زیر اثر جھارکھنڈ، اڈیشہ، چھتیس گڑھ،تلنگانہ اور آندھرا پردیش کے درمیان ریڈ کوریڈور بنانے کا کام سونپا گیا تھا۔