آمریت کے برعکس جمہو ریت مضبوط ہورہی ہے:بائیڈن

   

دو روزہ سربراہی اجلا میں121 قائدین مدعو،چین اور روس کاامریکہ پر منافقت کا الزام
’’ہم نے عراق، لیبیا اور افغانستان میں امریکی جمہوریت کو زبردستی برآمد کرنے کی کوششوں کے تباہ کن نتائج بھی دیکھے ہیں‘‘…. روی سفیر اناتولی انتونوف

واشنگٹن : امریکی صدر جو بائیڈن نے جمہوریت سے متعلق اہتمام کردہ اپنی دوسری سربراہی کانفرنس کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ آمریتوں کے برعکس جمہوریتیں مضبوط ہو رہی ہیں۔ چین اور روس نے اس کانفرنس پر شدید نکتہ چینی کی ہے۔امریکی صدر جو بائیڈن نے 29 مارچ کے روز جمہوریت کے تعلق سے اہتمام کردہ اپنی دوسری سربراہی کانفرنس کا آغاز کیا، جو بڑی حد تک عالمی رہنماؤں کے ساتھ ایک ورچؤل ملاقات ہے۔اس دو روزہ سربراہی اجلاس کے لیے تقریباً 121 رہنماؤں کو مدعو کیا گیا تھا، جس کی ابتدا صدر بائیڈن نے اپنے پیشرو ڈونلڈ ٹرمپ کے قدرے مخالفانہ رویے کی وجہ سے اپنے اتحادیوں کے ساتھ واشنگٹن کے تعلقات کو بحال کرنے کے لیے کی تھی۔بائیڈن نے اجلاس سے اپنے افتتاحی خطاب میں کہا، ”میرے خیال سے یہ ہمارے دور کا ایک واضح چیلنج ہے اور ہم آج فخر کے ساتھ یہ کہہ سکتے ہیں کہ دنیا کی جمہوریتیں کمزور نہیں بلکہ مضبوط ہو رہی ہیں۔ دنیا کی آمریتیں مضبوط نہیں بلکہ کمزور ہو رہی ہیں۔”امریکہ کے بعض اتحادی ممالک، جہاں رہنماؤں نے زیادہ آمرانہ رویے کا مظاہرہ کیا ہے، انہیں کانفرنس میں شریک ہونے کی دعوت نہیں دی گئی، جیسے کہ ترکی کے صدر رجب طیب اردغان اور ہنگری کے وزیرِ اعظم وکٹر اوربان، یہ دونوں ممالک نیٹو کے رکن ہیں اس کے باوجود انہیں مدعو نہیں کیا گیا۔سربراہی اجلاس میں شرکت کرنے والے رہنماؤں میں اسرائیل اور ہندوستان امریکہ کے قریبی اتحادی ہیں، جن پر حال ہی میں واشنگٹن کی جانب سے تنقید بھی کی گئی ہے۔اس ہفتے کے اوائل میں اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے بڑے پیمانے پر احتجاج اور ہڑتالوں کے بعد متنازعہ عدالتی اصلاحات کو روک دیا۔ ناقدین کا الزام ہے کہ ان کی حکومت مجوزہ تبدیلیوں سے اسرائیل کی عدلیہ کو کمزور کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہی ہے۔نیتن یاہو نے سربراہی اجلاس میں کہا کہ امریکہ اسرائیل اتحاد ”غیر متزلزل” ہے اور بائیڈن کو ”40 برس پرانا اپنا دوست” قرار دیا۔دوسری جانب یوکرین میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے ہندوستاان کو روس اور امریکہ دونوں کی طرف سے بار بار سفارتی اور تجارتی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ہندوستانی وزیر اعظم مودی نے اسی دن اس سربراہی اجلاس میں شرکت کی، جس دن روس نے ہندوستان کو ”تیل کی سپلائی میں خاطر خواہ اضافہ” کرنے کے اپنے منصوبے کا اعلان کیا۔ہندوستان میں اسی ہفتے انتخابی مہم کی ایک تقریر کے دورانااپوزیشن لیڈر راہول گاندھی کو مودی کی توہین کرنے کا مجرم قرار دیا گیا اور ان کی پارلیمان کی رکنیت ختم کر دی گئی۔جمہوریت سے متعلق بائیڈن کی پہلی سربراہی کانفرنس کے بعد انسانی حقوق کے علم برداروں نے اس بات پر تنقید بھی کی ہے کہ اس کانفرنس میں شریک ممالک نے اپنی جمہوریتوں کو بہتر بنانے کی جانب بہت کم پیش رفت کی۔چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان ماؤ ننگ نے کہا کہ یہ سربراہی اجلاس ”تصادم کو بڑھاوا دیتا ہے” اور ”جمہوریت کے نام پر تقسیم کو مزید ہوا دے گا۔” واشنگٹن نے تائیوان کو اس اجلاس میں مدعو کیا تھا، تاہم چین کو نہیں۔ادھر روس کے سفیر اناتولی انتونوف نے امریکہ پر منافقت کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ وہ خود ”نسل پرستی، بندوق کے تشدد، بدعنوانی اور سماجی عدم مساوات” جیسے مسائل سے گھرا ہوا ہے۔ انتونوف نے کہا: ”ہم نے عراق، لیبیا اور افغانستان میں امریکی جمہوریت کو زبردستی برآمد کرنے کی کوششوں کے تباہ کن نتائج بھی دیکھے ہیں۔”