پارٹی کو آندھرا میں مستحکم کرنے کی مساعی، کے سی آر تلنگانہ بھون میں استقبال کریں گے
حیدرآباد۔یکم؍ جنوری، ( سیاست نیوز) آندھرا پردیش میں بی آر ایس کی سرگرمیوں کو وسعت مل سکتی ہے کیونکہ ایک ریٹائرڈ آئی آر ایس عہدیدار جنہوں نے 2019 کے پارلیمانی انتخابات میں جنا سینا کے ٹکٹ پر انکا پلی لوک سبھا حلقہ سے مقابلہ کیا تھا کل 2 جنوری کو بی آر ایس میں شمولیت اختیار کریں گے۔ سی ایچ پارتھا سارتھی کل تلنگانہ بھون میں بی آر ایس میں شمولیت اختیار کریں گے اور چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ ان کا استقبال کریں گے۔ پارتھا سارتھی کی بی آر ایس میں شمولیت کو آندھرا میں پارٹی کی سرگرمیوں کیلئے اچھی خبر تصور کیا جارہا ہے۔ واضح رہے کہ آندھرا پردیش کے کئی سیاسی اور سماجی قائدین سے چیف منسٹر کے سی آر ربط میں ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ کانگریس، تلگودیشم اور جنا سینا کے کئی قائدین نے شمولیت سے اتفاق کیا ہے۔ جنا سینا کے ایک اور قائد ٹی چندر شیکھر بھی بی آر ایس میں شمولیت اختیار کرسکتے ہیں۔ سابق وزیر آر کشور بابو نے بی آر ایس میں شمولیت سے اتفاق کیا ہے۔ بی آر ایس آندھرا پردیش کے صدر کے طور پر سابق آئی اے ایس عہدیدار ٹی چندر شیکھر کا نام زیر غور بتایا جاتا ہے۔ وہ آندھرا پردیش میں کاپو طبقہ کو بی آر ایس کے ووٹ بینک میں تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ اگر انہیں بی آر ایس آندھرا پردیش یونٹ کا صدر مقرر کیا جائے تو کاپو طبقہ بڑی حد تک بی آر ایس کے ساتھ ہوسکتا ہے۔ وہ سابق میں وائی ایس آر کانگریس میں سرگرم رہ چکے ہیں۔ 2014 میں انہوں نے وائی ایس آر کانگریس کے ٹکٹ پر ایلور لوک سبھا حلقہ سے مقابلہ کیا تھا۔ تلگودیشم کے ماگنٹی بابو سے انہیں شکست ہوئی تھی۔ انہوں نے 2019 میں گنٹور ویسٹ اسمبلی حلقہ سے مقابلہ کیا تھا لیکن کامیابی نہیں ملی۔ر