آوٹر رنگ روڈ کے قریب 300 ایکڑس پر ملٹی ماڈل لاجسٹک ہب

   

حیدرآباد ۔ 19 ۔ نومبر : ( سیاست نیوز ) : حیدرآباد میٹرو پولیٹن ڈیولپمنٹ اتھاریٹی (HMDA) کی جانب سے شمس آباد میں آوٹر رنگ روڈ کے قریب ایک ملٹی ۔ ماڈل لاجسٹک ہب قائم کیا جارہا ہے ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بیجا نہ ہوگا کہ حیدرآباد میٹرو پولیٹن ڈیولپمنٹ اتھاریٹی نے حیدرآباد ۔ وجئے واڑہ نیشنل ہائی وے پر باٹا سنگارام میں اور حیدرآباد ۔ ناگر جنا ساگر نیشنل ہائی وے پر منگل پلی میں پی پی پی اساس پر لاجسٹک پارکس قائم کئے ہیں چونکہ میٹرو پولیٹن شہر حیدرآباد کا محل وقوع ایسا ہے کہ یہ شہر شمالی ہند کو جنوبی ہند سے مربوط کرتا ہے ۔ اس لیے یہاں لاجسٹکس کی ترقی کے لیے کافی امکانات اور مواقع ہیں ۔ بڑھتے ہوئے ای کامرس اور ریٹیل سرگرمیوں کے پیش نظر اشیاء اور سامان کو لانے لے جانے ان کے حمل و نقل کی بہت اہمیت ہوگئی ہے ۔ دراصل ، امیزان نے شمس آباد ایرپورٹ کے قریب اس کا فیسیلیشن سنٹر قائم کیا ہے ۔ اسی طرح کئی آن لائن کمپنیوں نے بھی ایر پورٹ کے قریب ان کے ویر ہاوزس قائم کئے ہیں ۔ سامان کو سڑک ، ریل اور فضائی راستوں سے لانے لے جانے کے لیے شمس آباد کا محل وقوع بڑی اہمیت کا حامل ہے ۔ اس لیے حکومت تلنگانہ نے 300 ایکڑس میں ایک ملٹی ماڈل ٹرانسپورٹ ہب قائم کرنے کا منصوبہ بنایا ہے ۔ ایرپورٹ پر کارگو فلائٹس کے علاوہ مسافر طیاروں میں اضافہ کے پیش نظر عہدیداروں نے اس مجوزہ ہب کے لیے اراضی حاصل کرنا شروع کردیا ہے ۔ نیز ریاستی اور قومی شاہراہیں بھی شمس آباد میں آوٹر رنگ روڈ سے گذرتی ہیں اور ٹرینس بھی ایرپورٹ علاقہ سے گذرتی ہوئی بنگلورو پہنچتی ہیں ۔ یہ مجوزہ ہب عوامی ۔ خانگی شراکت کے ساتھ قائم کیا جائے گا ۔ حکومت تلنگانہ کو اس کے لیے ضروری اراضی اور دیگر انفراسٹرکچر سہولتیں فراہم کرنی ہوں گی تاکہ خانگی انڈسٹریز اس لاجسٹکس ہب میں ان کے یونٹس قائم کرنے کیلئے آگے آسکیں ۔ مجوزہ ہب سے بے روزگار نوجوانوں کے لیے ملازمتوں کے مواقع بھی پیدا ہوں گے ۔۔
ایچ ایم ڈی اے نے اس پراجکٹ کو خانگی عوامی شراکت کی اساس پر روبہ عمل لانے کا فیصلہ کیا ہے کیوں کہ اس سے حکومت پر زیادہ بوجھ نہیں پڑے گا اور اس کے مینٹیننس کے معاملہ کوئی مسائل نہیں ہوں گے ۔ ایچ ایم ڈی اے کا خیال ہے کہ مال تجارت کے حمل و نقل کے لیے معاون اور سازگار ماحول پیدا کرنا خانگی شعبہ سے زیادہ سرمایہ کاری کو راغب کرنے میں معاون ہوگا ۔
ایچ ایم ڈی اے کے ایک عہدیدار نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی خواہش کے ساتھ کہا کہ اس سلسلہ میں ریاستی حکومت کی جانب سے کافی ہوم ورک کرنے کے بعد اس مسئلہ پر بیان جاری کیا جائے گا ۔۔