اب چین میں شادی آسان اور طلاق مشکل ہوجائے گی

   

بیجنگ: چین میں شادی اور طلاق سے متعلق ’ فیملی فرینڈلی سوسائٹی‘ کے نام سے ایک بل متعارف کرا دیاگ یا ۔ عالمی خبر رساں ادارہ کے مطابق شادی کو آسان بنانے کیلئے پیش کئے گئے قانونی مسودے میں شادی کا اندارج مقامی رجسٹریشن سنٹر میں لازمی ہونے کی شرط کو ختم کردیا گیا تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ شادی کیلئے آمادہ ہوجائیں گے ۔علاوہ ازیں شادی کرنے والوں کیلئے مختلف مراعات کا بھی اعلان کیا گیا ہے جب کہ بچوں کی پیدائش کی حوصلہ افزائی کیلئے بالخصوص دوسرے بچے کے جنم پر انعامات کا اعلان بھی کیا گیا ہے ۔ اسی طرح طلاق کی شرح پر قابو پانے کیلئے نیا طریقہ کار متعارف کرایا گیا ہے ۔ طلاق کے خواہشمند جوڑے کو 30 دن کا ’ کولنگ پیریڈ ‘ دیا جائے گا تاکہ شوہر یا بیوی میں سے اگر کوئی اپنے فیصلہ پر نظر ثانی کرناچاہے تو ان 30 دنوں میں طلاق کی درخواست واپس لے سکتا ہے ۔اس قانونی مسودے کو منظور کرانے سے قبل عوام سے 11ستمبر تک رائے جمع کرانے کی اپیل کی گئی ہے ۔ خیال رہے کہ حکومت کی جانب سے یہ قانونی مسودہ اس وقت سامنے آیا ہے جب مسلسل 2سال سے چین کی آبادی بڑھنے کے بجائے کم ہورہیہے جب کہ پالیسی بنانے والوں نے بھی نوجوانوں پرشادی کرنے پر زور دیا ہے ۔