بیت المقدس: اسرائیلی وزیر اعظم یائر لبید نے فلسطینی نژاد امریکی اور الجزیرہ سے وابستہ خاتون صحافی شیریں ابو عاقلہ پر فائرنگ کر کے قتل کرنے والے اسرائیلی فوجی کے خلاف کیس چلانے کا مطالبہ مسترد کر دیا ہے۔ یائرلبید کا دو ٹوک کہنا ہے کہ اسرائیلی حکومت اور قوم اپنے فوجیوں کے ساتھ ہے۔اسرائیلی وزیراعظم نے پوری وضاحت کے ساتھ کہا ‘یہ نہیں ہو سکتا کہ ہم صرف اس بات پراپنے رولز کو تبدیل کریں کہ اس طرح کا مطالبہ بیرون ملک سے آیا ہے۔اسرائیلی وزیر اعظم نے کہا ‘میں اجازت نہیں دو ں گا کہ فوج کا جوسپاہی دہشت گردوں کے سامنے اپنی حفاظت کے لیے کھڑا تھا اس کے خلاف مقدمہ چلایا جائے ۔اس سے قبل امریکی دفتر خارجہ کے ترجمان وینڈت پٹیل نے شیریں ابو عاقلہ کی ہلاکت کے بارے میں اسرائیلی فوج کی دوسری تحقیقاتی رپورٹ منظر عام پر آنے پر کہا تھا کہ ہم اپنے اسرائیلی پارٹنرز پر دباو جاری رکھیں گے کہ وہ اپنی فوجی پالیسی اور پریکٹس پر نظرثانی کریں تاکہ سویلین کے لیے ایسے خطرات کم ہوں۔واضح رہے اسرائیلی فوج نے جنین کے پناہ گزیں کیمپ کے مکینوں کے خلاف کارروائی کے دوران شیریں ابو عاقلہ الجزیرہ کے لیے اس کوریج کرتے ہوئے ہلاک کر دیا تھا۔