ٹکیٹ کے چاچا۔ بھتیجہ ریمارک کی تائید، مہاراشٹرا میں مسلم تحفظات سے پہلے تلنگانہ میں 12 فیصد حاصل کریں
حیدرآباد۔/23 نومبر، ( سیاست نیوز) قانون ساز کونسل کے سابق اپوزیشن لیڈر محمد علی شبیر نے کسان قائد راکیش ٹکیٹ کے اس بیان سے اتفاق کیا جس میں انہوں نے صدر مجلس اسد اویسی اور بی جے پی کے درمیان تعلقات کو چاچا ۔ بھتیجہ سے تعبیر کیا۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ صدر مجلس اسد اویسی زرعی قوانین کی طرح سی اے اے اور این آر سی سے دستبرداری کا مطالبہ کررہے ہیں تاکہ اتر پردیش الیکشن میں ووٹ تقسیم کئے جاسکیں۔ ان کا مقصد متنازعہ قوانین کی واپسی نہیں بلکہ بی جے پی کو فائدہ پہنچانا ہے۔ محمد علی شبیر نے الزام عائد کیا کہ اسد اویسی نے ملک کے مختلف حصوں میں سی اے اے اور این آر سی کے خلاف کئی احتجاجوں کو نقصان پہنچایا ہے خاص طور پر تلنگانہ میں اس احتجاج کو کمزور کیا گیا۔ ہر شخص جانتا ہے کہ مجلس نے ٹی آر ایس حکومت کو حیدرآباد میں ڈسمبر 2019 کے دوران ملین مارچ کی اجازت نہ دینے کیلئے دباؤ بنایا تھا۔ کانگریس نے کھل کر احتجاج کی تائید کی لیکن مجلس نے اس مسئلہ پر ووٹ تقسیم کرنے کی سازش کی ہے۔ اتر پردیش انتخابات میں بی جے پی کو فائدہ پہنچانے کیلئے سی اے اے اور این آر سی پر احتجاج کی دھمکی دی جارہی ہے۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ اتر پردیش کے مسلمانوں کو مجلس سے چوکس رہنا چاہیئے ۔ سی اے اے اور این آر سی صرف اخبارات بیانات سے واپس نہیں لئے جائیں گے۔ کسانوں نے اپنی جدوجہد کے ذریعہ ایک مثال قائم کی ہے۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ اشتعال انگیز بیانات کے ذریعہ بی جے پی حکومت سے خفیہ معاہدہ کے تحت ووٹ تقسیم کرنے کی تیاری ہے۔ مجلس اور بی جے پی کے درمیان دوستی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ یہ دونوں آپسی فائدہ کیلئے ایک دوسرے پر تنقید کرتے ہیں۔ اتر پردیش میں 100 نشستوں پر مقابلہ کا معاہدہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے اپنے گزشتہ دورہ کے موقع پر امیت شاہ کے ذریعہ کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر اور اویسی کے تعلقات ماما ۔ بھانجہ کی طرح ہیں۔ انہوں نے مجلس مہاراشٹرا میں مسلم تحفظات کا مطالبہ کررہی ہے۔ مطالبہ سے قبل اسد اویسی کو تلنگانہ میں مسلمانوں کیلئے 12 فیصد تحفظات پر عمل آوری کیلئے جدوجہد کرنی چاہیئے۔ر