اتراکھنڈ میں کئی دینی مدارس کو حکومت نے بند کردیا، مسلمانوں کا احتجاج

,

   

مدرسہ بورڈ یا محکمہ تعلیم کیساتھ رجسٹرڈ نہ ہونے کا بہانہ۔مدارس کے منتظمین کو پیشگی اطلاع نہیں دی گئی

نئی دہلی: اتراکھنڈ کے دہرادون میں مقدس ماہ رمضان المبارک کے دوران انتظامیہ نے 11 مدارس کو سیل کردیا جبکہ مسلمانوں نے اس کارروائی کو غیرقانونی قرار دیا ہے۔ حکام نے متعدد مدرسوں کو یہ کہتے ہوئے سیل کردیا کہ وہ مدرسہ بورڈ یا محکمہ تعلیم کے ساتھ رجسٹرڈ نہیں تھے۔28 فروری کو ضلع انتظامیہ کی ہدایت کے بعد حکام نے ریاستی مدرسہ بورڈ یا محکمہ تعلیم کے ساتھ غیر رجسٹریشن کا حوالہ دیتے ہوئے دہرادون میں 11 مدارس کو مہر بند کردیا ہے۔ دہرادون مجسٹریٹ، ساوین بنسل نے کہا کہ صدر دہرادون تحصیل میں 16 مدرسے غیر رجسٹرڈ اور آٹھ مدارس رجسٹرڈ ہیں، وکاس نگر تحصیل میں 34 غیر رجسٹرڈ اور 27 رجسٹرڈ مدرسے ہیں، دوئی والا میں ایک رجسٹرڈ اور چھ غیر رجسٹرڈ مدرسے ہیں۔وکاس نگر تحصیل کے سب ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ونود کمار کے مطابق 3 مارچ سے اب تک 9 مدارس کو سیل کر دیا گیا ہے۔ دیگر دو ادارے دوئی والا اور صدر میں موجود ہیں جنہیں سیل کیا گیا۔ مدارس کو سیل کرنے کی کارروائی کے خلاف مسلم سیوا تنظیم نے کلکٹریٹ اور ایم ڈی ڈی اے دفتر پر سخت احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مسلم سیوا سنگٹھن کے صدر نعیم قریشی نے کہا کہ مسلمانوں کے دینی مدارس کو سیل کرنا غیر قانونی ہے۔ انہوں نے کہاکہ مدرسہ کے منتظمین کو کوئی پیشگی اطلاع نہیں دی گئی تھی۔ ریاست کے مسلمانوں نے بھی حکومت کے رویہ کے خلاف سخت اعتراض جتایا ہے۔