احتجاج کرنے والے کسان دہشت گرد نہیں : کے ٹی آر

,

   

شاد نگر میں منظم کردہ احتجاج میں حصہ لیا۔ کسان دشمن قوانین سے دستبردارہوجانے کا مطالبہ

حیدرآباد : ٹی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ و ریاستی وزیر بلدی نظم و نسق کے ٹی آر نے زرعی قوانین کے خلاف منظم کئے گئے بھارت بند احتجاج میں حصہ لیا اور پلے کارڈ تھام کر بتایا کہ ’’کسان دہشت گرد نہیں ہیں‘‘۔ شاد نگر کے بورگل ٹول گیٹ کے پاس احتجاج کرتے ہوئے کے ٹی آر نے کہاکہ ٹی آر ایس حکومت کسانوں کے مطالبات اور احتجاج کی مکمل تائید و حمایت کرتی ہے۔ مرکزی حکومت فوری کسان دشمن زرعی قوانین سے دستبردار ہوجائے اور کسانوں کے مطالبات کو قبول کرے ورنہ ٹی آر ایس کسانوں کی طرف سے جدوجہد کے لئے پوری طرح تیار ہے۔ انھوں نے کہاکہ کسانوں سے کسی بھی ناانصافی کو ٹی آر ایس برداشت نہیں کرے گی۔ ٹی آر ایس کے ورکنگ پریسڈنٹ نے کہاکہ کسان گزشتہ 13 دن سے دہلی اور اس کے آس پاس احتجاج کررہے ہیں۔ کے ٹی آر نے کہاکہ ملک کو کھانا کھلانے والے کسان خوش ہونے پر ہی ملک خوشحال رہ سکتا ہے۔ لیکن مرکزی حکومت کی غلط پالیسیوں اور فیصلوں سے سارے ملک کے کسانوں کی آنکھوں میں آنسو ہیں۔ مرکزی حکومت کارپوریٹ اداروں کے دباؤ میں کام کررہی ہے۔ انھوں نے کہاکہ مرکزی حکومت جمہوری اقدار سے واقف نہیں ہے۔ مارکٹ کمیٹیوں کو منسوخ کرنے کی تیاریوں کی ٹی آر ایس مکمل مخالف ہے۔ زرعی قوانین نہ صرف زراعت اور کسانوں کے خلاف ہیں بلکہ غریب و متوسط طبقہ کے بھی خلاف ہیں۔ وقت آگیا ہے کہ سب سیاست سے بالاتر ہوکر کسانوں کی تائید کریں۔ کے ٹی آر نے کہاکہ ان زرعی قوانین کے خلاف ٹی آر ایس نے پارلیمنٹ میں بھی مخالفت کی اور احتجاج بھی کیا تھا۔ ٹی آر ایس کے ارکان پارلیمنٹ نے بل کے خلاف ووٹ دیا تھا۔ چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر ریاست میں کسانوں سے انصاف کررہے ہیں۔ رعیتو بندھو، رعیتو بیمہ اسکیمات کے ذریعہ کسانوں کو راحت فراہم کی جارہی ہے۔ زراعت کے معاملے میں مرکزی حکومت ریاستوں کے حقوق کو تلف کرنے کی کوشش کررہی ہے۔