ادئے پور قتل کے ملزمین پر یو اے پی اے مقدمہ درج

,

   

راجستھان میں 144 نافذ ، دہشت گردی کا ماحول پیدا کرنے کی ساز ش ہوئی ہے : چیف منسٹر گہلوت

جئے پور : کنہیا لال کے قتل کو قانون انسداد مجرمانہ سرگرمیاں ( یو اے پی اے) کی سخت دفعات کے تحت درج رجسٹر کیا گیا ہے اور اس معاملے کی تحقیقات قومی تحقیقاتی ادارہ (این آئی اے) کرے گا ، چیف منسٹر راجستھان اشوک گہلوت نے آج چہارشنبہ کو اعلیٰ سطح کے جائزہ اجلاس کی صدارت کے بعد یہ بات بتائی ۔ انہوں نے کہا کہ راجستھان اے ٹی ایس اس تحقیقات میں بھرپور تعاون فراہم کرے گا۔دریں اثناء گزشتہ روز کے سنسنی خیز قتل کے بعد پیدا شدہ کشیدگی کو دیکھتے ہوئے حکومت نے پوری ریاست میں سیکشن 144 نافذ کردیا ہے تاکہ مزید ناخوشگوار واقعات کو ٹالا جاسکے ۔ پولیس عہدیداروں نے کہا کہ ابتدائی تحقیقات سے انکشاف ہوا ہے کہ یہ واقعہ بادی النظر میں دہشت گردی پیدا کرنے کے مقصد سے کیا گیا ہے ۔ ملزمین کے دیگر ملکوں کے عناصر کے ساتھ بین الاقوامی رابطے کے تعلق سے انکشافات بھی سامنے آرہے ہیں ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ پولیس اور نظم و نسق کو چاہئیے کہ ریاست میں لا اینڈ آرڈر کو یقینی بنائیں اور شر پیدا کرنے کی کوشش کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کریں ۔ گہلوت نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ 5 پولیس عہدیداروں کو باری سے قطع نظر ترقی دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ یہ عہدیداران تیج پال ، نریندر ، شوکت ، وکاس اور گوتم ہے جنہوں نے ادئے پور واقعہ میں ملوث ملزمین محمد غوث اور ریاض جبار کی تیزی سے گرفتاری عمل میں لائی ہے ۔ دریں اثناء ملزم محمد غوث کے تعلق سے پتہ چلا ہے کہ اس کا پاکستان سے ربط ہے ۔ غوث جس نے کنہیا لال کا قتل کیا ، وہ دہشت گردی کی ٹریننگ حاصل کرنے کیلئے پاکستان گیا تھا اور ہندوستان میں روپوش کارندے کے طور پر مقیم رہا ہے ۔ وہ مختلف فون نمبرات کے ذریعہ پاکستان نشین آقا سے ربط میں رہا ہے ۔ جھیل کے شہر ادئے پور کے ایک پرہجوم علاقہ میں گزشتہ روز دن دھاڑے دلیرانہ قتل ہوا اور قاتلوں نے سوشیل میڈیا پر ویڈیو ڈال کر دعویٰ کیا کہ مقتول کو قابل اعتراض سوشیل میڈیا پوسٹ پر سبق سکھایا گیا ہے ۔