کوکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے جلد ملاقات کی امید ظاہر کی
ممبئی:1 جولائی (یو این آئی) شیوسینا ( ٹھاکرے ) کے سربراہ ادھو ٹھاکرے نے سی جے پی (کاکروچ جنتا پارٹی) کے بانی ابھیجیت دِپکے سے ٹیلی فون پر رابطہ کرکے انہیں ممبئی میں واقع اپنی رہائش گاہ ”ماتوشری” آنے کی دعوت دی ہے ۔ ادھو ٹھاکرے نے حالیہ طلبہ تحریک اور اس سے جڑے مسائل کو اجاگر کرنے میں دِپکے کے کردار کو سراہتے ہوئے ان سے جلد ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا ۔اطلاعات کے مطابق، ادھو ٹھاکرے نے فون پر گفتگو کے دوران ابھیجیت دِپکے کو ان کی جدوجہد کیلئے مبارکباد پیش کی اور کہا کہ طلبہ کے مسائل اور امتحانی نظام میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف آواز اٹھانا ایک اہم کام ہے ۔ انہوں نے دِپکے کو ماتوشری آنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ اس معاملے پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا جانا چاہیے ۔اس دعوت پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ابھیجیت دِپکے نے کہا کہ وہ ادھو ٹھاکرے کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے ان کی تحریک کی حمایت کی اور ذاتی طور پر ملاقات کی خواہش ظاہر کی۔تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ان کی تحریک کسی سیاسی جماعت کی نہیں بلکہ عوام، طلبہ اور ملک کے مستقبل کے لئے ایک غیر سیاسی عوامی تحریک ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ان تمام افراد اور جماعتوں کا خیرمقدم کرتے ہیں جو خلوص کے ساتھ اس جدوجہد کی حمایت کررہے ہیں۔دیپکے نے کہا کہ وہ مناسب وقت پر ماتوشری ضرور جائیں گے اور ادھو ٹھاکرے سے ملاقات کریں گے ، لیکن ان کی تحریک اپنی خود مختار شناخت برقرار رکھے گی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان کا مقصد کسی سیاسی جماعت سے وابستگی اختیار کرنا نہیں بلکہ ملک کے نوجوانوں، طلبہ اور عوام کے بنیادی مسائل کو اجاگر کرنا ہے ۔قابل ذکر ہے کہ گزشتہ ماہ ادھو ٹھاکرے نے ممبئی میں منعقدہ ایک جلسۂ عام کے دوران سی جے پی کی تحریک اور ابھیجیت دِپکے کی مکمل حمایت کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے ماحولیاتی کارکن سونم وانگ چک اوردِپکے کی جانب سے امتحانی بے ضابطگیوں اور طلبہ کے مسائل کے خلاف جاری احتجاج کو اپنی مکمل حمایت دیتے ہوئے مرکزی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔
دوسری جانب، ابھیجیت دِپکے حالیہ دنوں مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا ہے کہ احتجاجی تحریک کے دوران انہیں دھمکیاں دی گئیں اور بعض حلقوں کی جانب سے سیاسی جماعت میں شامل ہونے کی پیش کش بھی کی گئی، جسے انہوں نے مسترد کردیا۔دِپکے کا کہنا ہے کہ ان کی جدوجہد کسی فرد یا جماعت کے خلاف نہیں بلکہ نظام میں اصلاح اور نوجوانوں کے مستقبل کے تحفظ کے لئے ہے ۔سیاسی مبصرین کے مطابق، ادھو ٹھاکرے کی جانب سے ابھیجیت دِپکے کو ماتوشری کی دعوت کو مہاراشٹر کی سیاست میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جارہا ہے ۔