اسد اویسی، عبدل کا نام لے کر نفرت پھیلانا بند کریں

   

اترپردیش میں صدر مجلس کی انتخابی مہم پر عآپ لیڈر سنجے سنگھ کا سخت ردعمل

حیدرآباد۔28۔اکٹوبر(سیاست نیوز) اترپردیش اسمبلی انتخابات کی مہم کے سلسلہ میں بیرسٹر اسدالدین اویسی کے بیانات پر رکن پارلیمنٹ عام آدمی پارٹی سنجے سنگھ نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وہ ’عبدل‘ کا نام لیتے ہوئے نفرت پھیلانے کا سلسلہ بند کریں ۔ انہوں نے مہم کے دوران ’عبدل‘ کے نام پر کی جانے والی سیاست کے لئے مودی‘ اویسی اور یوگی کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ رائے دہندوں کے درمیان منافرت پھیلاتے ہوئے اپنے سیاسی مقاصد کے حصول پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہیں اور عوام کو ہونے والے مسائل سے بے پرواہ ہیں۔ رکن راجیہ سبھا عام آدمی پارٹی سنجے سنگھ نے اپنے خطاب کے دوران بیرسٹر اسد الدین اویسی کو مشورہ دیا کہ وہ ’عبدل کے دری بچھانے‘ کا تذکرہ کرتے ہوئے مسلمانوں کو کمزور کے طور پر پیش نہ کریں بلکہ مسلمانوں میں موجود اے پی جے عبدالکلام ‘ خان عبدالغفار خان کے علاوہ حوالدار عبدالحمید کا بھی تذکرہ کریں ۔ انہو ںنے اپنے خطاب کے دوران کہا کہ ’عبدل صرف دری نہیں بچھاتا ‘ بلکہ عبدل میں وہ بھی ہیں جنہوں نے ملک کو میزائل دیا ‘ عبدل میں وہ بھی ہیں جنہوں نے ملک کی سرحد کی حفاظت ایسے کی کہ دنیایاد رکھے گی۔ انہوںنے کہا کہ عبدل میں وہ بھی ہیں جو آزادی کے لئے کئی برسوں تک جیل میں رہے اور جنہیں سرحدی گاندھی کے نام سے یاد کیاجاتا ہے اور وہ بھارت رتن ہیں۔ اترپردیش میں اپنی تقاریر کے دوران بیرسٹر اسدالدین اویسی اپنی ہر تقریر میں مسلمانوں سے سوال کر رہے ہیں کہ آخر ’عبدل‘ کب تک دری بچھانے کا کام کرے گا اور کب ’عبدل‘ اپنی قیادت تیار کرتے ہوئے ایوان میں پہنچے گا! بیرسٹراسدالدین اویسی صدر کل ہند مجلس اتحاد المسلمین و رکن پارلیمنٹ کے اس بیان پر مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین کی جانب سے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے یہ کہا جارہاہے کہ وہ اپنی تقاریر کے ذریعہ مسلمانوں کی حوصلہ شکنی کر رہے ہیں اور یہ تاثر دے رہے ہیں کہ مسلمان اس ملک میں اچھوت ہوچکا ہے ۔ سنجے سنگھ نے اپنے خطاب کے دوران کہا کہ اس طرح کے بیانات کے جواب میں اب بھارتیہ جنتاپارٹی ہندو ؤں کے درمیان پہنچ کر یہ کہے گی کہ ’’ہندو خطرہ میں ہیں‘‘ انہوں نے بتایا کہ یوگی ۔مودی کے اس طرح کے بیانات کے جواب میں وہ یہ کہنا چاہیں گے کہ جب ملک میں وزیر اعظم ہندوہے‘ اترپردیش میں وزیر اعلیٰ ہندو ہے‘ ملک میں وزیر داخلہ ہندو ہے اور ملک میں وزیر دفاع ہندو ہے تو پھر ہندو کس طرح سے خطرہ میں ہیں! انہوں نے انتخابات سے قبل رائے دہندوں کو مذہبی خطوط پر منقسم کرنے کی کوششوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دونوں جانب سے عوام کو متنفر کرتے ہوئے اہم موضوعات سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی جار ہی ہے جبکہ ملک کو کئی ایک چیالنجس درپیش ہیں اور ان چیالنجس کا مقابلہ کرنے میں حکومت ناکام ہورہی ہے اور اگر یہی حالات عوام کے درمیان پیش کئے جائیں تو بی جے پی باقی نہیں رہے گی۔3