واشنگٹن: امریکہ نے اسرائیل کو 20 ارب ڈالر مالیت سے زیادہ کے لڑاکا طیاروں اور دیگر فوجی ساز و سامان کی فروخت کی منظوری دے دی ہے۔ تاہم امریکی وزارت دفاع (پینٹاگان) نے بتایا ہے کہ ان چیزوں کی حوالگی چند برس بعد شروع ہو گی۔اسرائیل گذشتہ 10 ماہ سے غزہ کی پٹی میں حماس کے خلاف جنگ میں مصروف ہے۔ پینٹاگان کی جانب سے منگل کے روز جاری بیان کے مطابق امریکی وزیر خارجہ اینٹنی بلنکن نے 19 ارب ڈالر قیمت کے F-15 طیاروں اور ساز و سامان کے علاوہ 77.4 کروڑ ڈالر کا ٹینکوں کا گولہ بارود، 6 کروڑ ڈالر سے زیادہ کے مارٹر گولے اور 58.3 کروڑ ڈالر کی فوجی گاڑیاں فروخت کرنے کی منظوری دی۔پینٹاگان کے مطابق F-15 لڑاکا طیاروں کی تیاری میں کئی برس درکار ہوں گے اور اسرائیل کو طیارے فراہم کرنے کا عمل 2029 میں شروع ہو گا۔ علاوہ ازیں دیگر فوجی ساز و سامان کی فراہمی کا آغاز 2026 میں ہو گا۔تاہم اس معاملے میں شریک ایک ماہر کا کہنا ہے کہ حوالگی کی بعض کارروائیاں 2026 سے پہلے انجام دی جا سکتی ہیں۔اسرائیلی وزیر دفاع یوآو گیلنٹ نے “ایکس” پلیٹ فارم پر ایک پوسٹ میں امریکی ذمے داران کی طرف سے مدد کا شکریہ ادا کیا۔ گیلنٹ کے مطابق اس مدد کے ذریعے اسرائیل خطے میں اپنی فوجی برتری برقرار رکھنے میں کامیاب رہا ہے۔رواں سال جون میں امریکی عہدیداران نے روئٹرز کو بتایا تھا کہ امریکہ نے 7 اکتوبر کی جنگ شروع ہونے کے بعد سے اسرائیل کو 10 ہزار سے زیادہ 2000 پاؤنڈ وزنی بم اور ہزاروں “ہیلفائر” میزائل فراہم کیے ہیں۔اس جنگ نے غزہ کی پٹی کو تباہ کرنے کے علاوہ شہریوں کی بہت بڑی تعداد کو موت کی چکی میں پیس دیا۔رواں سال 31 مئی کو امریکی صدر جو بائیڈں نے غزہ میں فائر بندی کیلئے تین مرحلوں پر مشتمل منصوبہ پیش کیا۔ تاہم اس منصوبے پر عمل درآمد کیلئے جاری کوششیں ابھی تک فائدہ مند ثابت نہیں ہو سکیں۔ 7 اکتوبر کو اسرائیل پر حماس کے حملے کے نتیجے میں اسرائیلی اعداد و شمار کے مطابق 1200 افراد مارے گئے اور تقریبا 250 کو قیدی بنا لیا گیا۔
ادھر اسرائیل کی جانب سے جوابی حملوں میں اب تک غزہ کی پٹی میں 40 ہزار کے قریب فلسطینی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔ اسی طرح جنگ کے سبب غزہ کی پٹی کی تقریبا پوری آبادی (23 لاکھ) بے گھر ہو گئی۔ اس کے علاوہ بھوک کا بحران بھی پیدا ہو گیا۔ عالمی عدالت انصاف نے وحشیانہ حملوں کے باعث اسرائیل پر اجتماعی نسل کشی کا الزام عائد کیا ہے۔اسرائیل کیلئے فوجی سپورٹ کے سبب واشنگٹن کو مقامی اور بین الاقوامی سطح پر بڑھتی ہوئی تنقید کا سامنا ہے۔