نئی دہلی، 2 اگست (یو این آئی) جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی نے ایمنسٹی انٹرنیشنل کی حالیہ تحقیقی رپورٹ پر شدید تشویش، گہرے دکھ اور برہمی کا اظہار کیا جس میں یہ انکشاف کیا گیا کہ 7 اکتوبر 2023 سے نومبر 2025 تک ہندستان سے لاکھوں کی تعداد میں ملٹری اسلحہ جات اور توپ کے گولے اسرائیل کو بھیجے گئے ہیں۔ مولانا مدنی نے اس سنگین معاملے پروزارتِ امورِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ردِعمل کو مبہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اتنے حساس بین الاقوامی معاملے پر حکومت کا ایسا رویہ ملک کی اخلاقی بنیادوں اور عالمی وقار کے لیے شدید نقصان دہ ہے ۔ میڈیاکے نام جاری باضابطہ بیان میں مولانا مدنی نے کہا کہ عالمی عدالتِ انصاف نے 2024 میں تمام ممالک کو متنبہ کیا تھا کہ غاصبانہ قبضے اور نسل کشی کی کارروائیوں کے پیشِ نظر اسرائیل کو اسلحہ کی سپلائی روکی جائے ۔ نیز 1949 کے جنیوا کنونشن اور1948 کے نسل کشی کے تدارک کے کنونشن کی روشنی میں جنگی جرائم میں استعمال ہونے والے اسلحہ کی فراہمی پر سخت پابندی ہے ۔ یہ جانتے ہوئے کہ ان ہتھیاروں کا استعمال معصوم بچوں، خواتین اور عام شہریوں کے ایک طرفہ قتل عام میں ہو رہا ہے ، اسلحہ سپلائی کرنا ایک مجرمانہ عمل اور نسل کشی میں شمولیت کے مترادف ہے ۔ یہ نہ صرف بین الاقوامی قانون کے خلاف ہے بلکہ انسانیت اور ہندستانیت کے دامن پر بدنما داغ ہے ۔ مولانا مدنی نے یاد دلایا کہ گاندھی جی کے زمانے سے ہندوستان کی سنہری تاریخ ہمیشہ مظلوم فلسطینیوں کے ساتھ کھڑے رہنے کی رہی ہے ۔