اسلام آباد مذاکرات ناکام‘ 21 گھنٹے کی بات چیت بے نتیجہ

,

   

امریکہ کی کچھ شرائط کو ایرانی وفد نے قبول نہیں کیا: امریکی نائب صدرجے ڈی وینس
کچھ معاملات پر اتفاق ، دو تین اہم امورکے سبب ڈیل نہ ہو سکی: ایرانی وزارت خارجہ

اسلام آباد۔12؍اپریل ( ایجنسیز) پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان جاری امن مذاکرات ناکام ہو گئے۔ طویل دورانیے تک جاری رہنے والی ان بات چیت کو اچانک ختم کرتے ہوئے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں وفد واپس امریکہ روانہ ہو گیا۔ 21 گھنٹوں تک جاری رہنے والی اس بات چیت کے باوجود دونوں ممالک کسی بھی معاہدے تک نہیں پہنچ سکے۔مذاکرات کے اختتام کے بعد جے ڈی وینس نے اسلام آباد میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ایران کے ساتھ تقریباً 21 گھنٹوں تک مسلسل بات چیت کی گئی جس میں کئی اہم امور زیر بحث آئے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی معاملے پر اتفاق رائے قائم نہیں ہو سکا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ نے معاہدے کیلئے کچھ شرائط پیش کی تھیں لیکن ایرانی وفد نے انہیں قبول نہیں کیا۔جے ڈی وینس نے مزید کہا کہ امریکی وفد نے انتہائی مثبت اور سنجیدہ رویہ اختیار کیا اور نیک نیتی کے ساتھ ایک معاہدے تک پہنچنے کی کوشش کی مگر بدقسمتی سے کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔ انہوں نے اس صورتحال کو امریکہ کے مقابلے میں ایران کیلئے زیادہ نقصان دہ قرار دیا اور کہا کہ بغیر کسی معاہدے کے وہ واپس امریکہ جا رہے ہیں۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ امریکہ چاہتا ہے کہ ایران مستقبل میں ایٹمی ہتھیاروں کے حصول یا ان کی تیاری کی کوشش نہ کرنے کی واضح ضمانت دے، تاہم ایران نے اس سے انکار کر دیا۔ اس کے باوجود امریکہ نے ایران کو اپنی تجاویز پر غور کیلئے مزید وقت دینے کا اشارہ دیا ہے۔جے ڈی وینس نے کہا کہ مذاکرات کے دوران صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے مسلسل رابطہ برقرار رکھا گیا جبکہ وزیر خارجہ مارکو روبیو، وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ اور وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ سے بھی مسلسل مشاورت جاری رہی۔ادھر، امریکی وفد کے روانہ ہونے کے بعد ایران نے بھی مذاکرات کی ناکامی پر ردعمل ظاہر کیا۔ ایرانی میڈیا کے مطابق ہرمز آبنائے اور ایران کے جوہری حقوق جیسے اہم معاملات پر اختلافات کے باعث یہ مذاکرات ناکام ہوئے۔ ترجمان ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والا مذاکرات کا یہ دور اس ایک سال میں مذاکرات کا طویل ترین دور تھا۔انہوں نے کہا کہ دونوں فریق کچھ معاملات پر اتفاق تک پہنچ گئے تھے تاہم دو، تین اہم امورکے سبب ڈیل نہ ہو سکی جبکہ دیگرامورپرنکتہ نظرمیں اختلاف موجود ہے۔ اسماعیل بقائی نے کہا کہ سفارت کاری کبھی ختم نہیں ہوتی۔ یہ قومی مفادات کے تحفظ کا ایک ذریعہ ہے۔ یہ توقع نہیں ہونی چاہیے تھی کہ ہم ایک ہی نشست میں کسی معاہدے تک پہنچ جائیں گے۔ میرے خیال میں کسی کو بھی ایسی توقع نہیں تھی۔ترجمان نے کہا کہ ایران خطے میں پاکستان اوردیگردوستوں کے ساتھ رابطہ میں رہیگا۔ انہوں نے پاکستان کی حکومت، عوام اور وزیر اعظم شہباز شریف کا شکریہ اداکیا۔H/A

ایران کی تجاویز ’عملی‘، اب امریکہ کو حقیقت پسندانہ موقف اختیار کرنا ہوگا:رپورٹ
اسلام آباد، 12 اپریل (یو این آئی) ایران نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں ’’عملی‘‘تجاویز پیش کی ہیں اور اب مزید پیش رفت امریکہ کے رویے پر منحصر ہے ۔ پریس ٹی وی نے اس معاملے سے باخبر ایک ذریعے کے حوالے سے یہ اطلاع دی ہے ۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی انتظامیہ نے مذاکرات کا اندازہ اسی طرح غلط لگایا، جس طرح اس نے اپنی فوجی حکمت عملی میں کیا تھا۔ ذرائع کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان اگلے دور کے مذاکرات کا مقام ابھی طے نہیں ہوا ہے ۔ دونوں ممالک کے درمیان ہفتہ کو اسلام آباد میں بات چیت ہوئی، جو امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے دو ہفتوں کی جنگ بندی کے اعلان کے بعد منعقد کی گئی تھی۔اس دوران، امریکی وفد کے سربراہ جے ڈی وینس نے کہا کہ طویل بات چیت کے باوجود کوئی معاہدہ نہیں ہو سکا اور امریکی ٹیم خالی ہاتھ واپس ہوگئی ۔اس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ مذاکرات بے اعتمادی کے ماحول میں ہوئے اور کسی کو بھی فوری معاہدے کی امید نہیں تھی۔ انہوں نے کہاکہ کچھ باتوں پر اتفاق رائے ہوا، لیکن بعض موضوعات پر اختلاف برقرار ہے۔H/A