اسلام آباد یادداشت مفاہمت سے متعلق خودمختاری کی حمایت کا اعادہ

   

نیویارک ۔ 23 ستمبر (ایجنسیز) سعودی عرب، مصر، ترکیہ اور پاکستان کے وزرائے خارجہ نے پائیدار امن اور استحکام کے حصول کیلئے اسلام آباد کی یادداشتِ مفاہمت کی پاسداری کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے، خطے میں جاری کشیدگی اور دشمنانہ کارروائیوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے، اور اس بات پر زور دیا کہ پائیدار حل تک پہنچنے کا واحد راستہ بات چیت اور سفارت کاری ہے۔وزراء خارجہ نے مملکت کو نشانہ بنانے والے تمام حملوں، بشمول حالیہ حوثی حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کی خودمختاری، اس کی علاقائی سالمیت اور سلامتی کیلئے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعجاز کیا ہے۔ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق اپنے دفاع اور اپنی سرزمین اور عوام کے تحفظ کے اس کے بنیادی حق کی تائید کی ہے، جبکہ بحری جہاز رانی کی سلامتی اور اس کی آزادی کو یقینی بنانے کی اہمیت پر بھی زور دیا ہے۔ یہ اجلاس سعودی عرب، مصر، پاکستان اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ کے درمیان 21 ستمبر 2026ء کو نیویارک شہر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس کے موقع پر منعقد ہوا۔اجلاس کے دوران علاقائی اور بین الاقوامی صورتحال کی تازہ ترین پیش رفت پر خیالات کا تبادلہ کیا، جہاں وزرائے خارجہ نے چاروں ممالک کے درمیان مشاورت اور رابطہ کاری جاری رکھنے کی اہمیت پر زور دیا، جو مشرق وسطیٰ اور عام طور پر پورے خطے میں امن، سلامتی، استحکام اور خوشحالی کے فروغ میں معاون ثابت ہو۔اسی تناظر میں وزرائے خارجہ نے یمن کی آئینی حکومت اور صدارتی قیادت کونسل کیلئے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعجاز کیا اور مختلف فریقوں کو شامل کرنے والے ایک جامع یمنی۔یمنی سیاسی عمل اور مکالمے کے ذریعہ یمن میں سلامتی، استحکام اور ترقی کے حصول کی کوششوں کا ساتھ دینے کا عزم ظاہر کیا۔