شملہ: ہماچل پردیش کے چیف الیکٹورل آفیسر منیش گرگ نے کہا ہے کہ کانگریس پارٹی یا کسی دوسری سیاسی پارٹی کے کارکنوں کا اسٹرانگ روم کے باہر کیمپ لگانا اصولوں کے خلاف نہیں ہے ۔ گرگ نے منگل کو یہاں کہا کہ کسی بھی سیاسی پارٹی کے ایجنٹ اسٹرانگ روم کے باہر ڈیرے ڈال سکتے ہیں۔ انہیں سہولیات فراہم کرنا الیکشن کمیشن کے فرائض میں آتا ہے ۔ سیاسی جماعتوں کا اسٹرانگ روم کے باہر ڈیرے ڈالنا کوئی نئی بات نہیں۔ بی جے پی کی جانب سے موصول ہونے والی شکایت کے بارے میں انہوں نے کہا کہ انہوں نے شکایت ضلعی عہدیداروں کو بھیج دی ہے ۔ ریاست میں ضابطوں کے دائرے سے باہر کوئی کام نہیں کیا جائے گا۔ہماچل پردیش اسمبلی انتخابات کے لیے 12 نومبر کو ووٹنگ مکمل ہو چکی ہے ۔ ایک مرحلے میں ہونے والی پولنگ میں قبائلی اضلاع سمیت ریاست میں کہیں سے بھی تشدد کا کوئی واقعہ رپورٹ نہیں ہوا۔ یعنی پولنگ پرامن طریقے سے ہوئی۔ انتخابی نتائج 8 دسمبر کو آئیں گے ۔ 12 نومبر کو قبائلی اضلاع سمیت پوری ریاست میں پولنگ ہوئی تھی۔دریں اثنا، کانگریس پارٹی کے کارکنوں نے کئی اسمبلی حلقوں میں اسٹرانگ روم کے باہر خیمے لگائے ہوئے ہیں۔ ہماچل بی جے پی نے اس سلسلے میں الیکشن کمیشن کو تحریری شکایت کی ہے ۔واضح رہے کہ ہماچل پردیش کے تمام 68 حلقوں میں ڈالے گئے ووٹ ای وی ایم میں قید ہیں۔ پچھلے ہفتے سے یہ ای وی ایم تین درجے حفاظتی حصار میں قید ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پیرا میٹرز کے مطابق ای وی ایم کی نگرانی کی جا رہی ہے ۔ اتنا ہی نہیں اسٹرانگ رومز میں بند تمام ای وی ایم بھی تھرڈ آئی (سی سی ٹی وی) کیمروں کی نظر میں ہیں۔ ایسے میں ان کے ہیک ہونے ، چوری ہونے اور دھاندلی کا اندیشہ ستا رہا ہے ۔کئی لیڈر اپنی شکست کا الزام ای وی ایم پر لگا رہے ہیں۔ الیکشن جیتنے والے کے لیے ای وی ایم سب سے محفوظ، قابل بھروسہ اور جدید الیکٹرانک دور کا مجسمہ بن جاتی ہے ۔ لیکن اگر ہار ہوجاتی ہے تو اس ای وی ایم کو ولن، ناقابل بھروسہ اور غیر محفوظ کہا جانے لگتا ہے ۔