اعلی اور معیاری مکانات حیدرآباد کے عوام کی پسند

   

ممبئی کے بعد دوسرا مقام گذشتہ چار ماہ میں 16 ہزار کروڑ مالیتی 26 ہزار سے زائد جائیدادوں کا رجسٹریشن ۔ زیادہ قیمتی مکانات کی خریدی کو ترجیح

حیدرآباد 18 مئی ( سیاست نیوز ) ممبئی کے بعد دوسرا مقام حاصل کرتے ہوئے حیدرآباد میں رئیل اسٹیٹ تجارت عروج پر پہونچ رہی ہے اور سالانہ ارتقاء کو دیکھا جائے تو اس میں 15 فیصد کا اضافہ ہوا ہے ۔ سال گذشتہ کے تناسب سے پہلے سہ ماہی کے دوران اضافی 9,550 رہائشی یونٹس کی فروخت ہوئی ہے جن کا رجسٹریشن کیا گیا ہے ۔ نائیٹ فرینک انڈیا نے اپنے تازہ ترین تجزیہ میں کہا ہے کہ حیدرآباد میں 2024 کے ابتدائی چار ماہ کے دوران جملہ 26.027 جائیدادوں کا رجسٹریشن ہوا ہے ۔ ان جائیدادوں کی جملہ مالیت 16,190 کروڑ روپئے بتائی گئی ہے ۔ کہا گیا ہے کہ گذشتہ سال کی بہ نسبت یہ 15 فیصد کا اضافہ ہے ۔ اگر مالیت کے اعتبار سے جائزہ لیا جائے تو یہ 40 فیصد اضافہ ہے ۔ رجسٹریشنس میں 2024 میںاضافہ کی وجہ اعلی قدر والے مکانات کا رجسٹریشن ہے ۔ خاص طور پر ایک کروڑ یا اس سے زائد مالیت کی جائیدادوں کا رجسٹریشن بڑھا ہے ۔ ایسی جائیدادوں کے رجسٹریشن میں سالانہ تقابل کے اعتبار سے 92 فیصد کا اضافہ ہوا ہے ۔ جائزہ میں کہا گیا ہے کہ اوسط مالیت یعنی 50 لاکھ سے ایک کروڑ روپئے تک کے مکانات کے رجسٹریشن میں بھی 47 فیصد کا اضافہ ہوا ہے ۔ بحیثیت مجموعی رجسٹریشن کروائے گئے مکانات کی مالیت بھی بڑھی ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ عوام زیادہ قیمت کی جائیدادوں کی خریدی میںدلچسپی لے رہے ہیں۔ حیدرآباد میں قیمتوں کی سطح میں سب سے زیادہ 13 فیصد کا اضافہ درج کیا جا رہا ہے اور عوام میںبلند و بالا عمارتوں کی تعمیر کے تعلق سے دلچسپی میں اضافہ ہوا ہے ۔ اپریل 2024 میںجملہ رہائشی جائیدادوں کا رجسٹریشن 6,578 یونٹس تک پہونچ گیا تھا جو سال گذشتہ کی بہ نسبت 46 فیصد زیادہ ہے ۔ ان جائیدادوں کی مالیت 4,260 کروڑ روپئے بتائی گئی ہے ۔ سالانہ اعتبار سے یہ 86 فیصد زیادہ ہے ۔ حیدرآباد رہائشی مارکٹ زیادہ تر چار اضلاع پر مشتمل ہے جن میںحیدرآباد ‘ میڑچل ۔ ملکاجگری ‘ رنگا ریڈی اور سنگاریڈی ہیں۔ پرائمری اور ثانوی رئیل اسٹیٹ مارکٹ کا اس میںزیادہ تر احاطہ کیا جا رہا ہے ۔ حیدرآباد میں زیادہ مالیت والے مکانات کی سمت رجحان میں اضافہ ہوا ہے جس کا 50 لاکھ سے زیادہ مالیت والی جائیدادوں کے رجسٹریشن سے پتہ چلتا ہے ۔ جائیزہ لینے پر پتہ چلا ہے کہ 50 لاکھ روپئے مالیتی مکانات کی فروخت اور رجسٹریشن میں 4 فیصد کی گراوٹ آئی ہے ۔ تاہم ایک کروڑ روپئے یا اس سے زیادہ مالیت کے مکانات کے رجسٹریشن میں 92 فیصد کا اضافہ ہوا ہے ۔ خاص بات یہ ہے کہ تمام شعبہ جات میںرجسٹریشن کی قدر میںاضافہ ہوا ہے ۔ جہاں 50 لاکھ روپئے مالیت کے مکانات کے رجسٹریشن میں چار فیصد کی گراوٹ آئی ہے وہیں ان کی مالیت میں گذشتہ سال کی بہ نسبت 17 فیصد کا اضافہ ہوا ہے ۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ قابل رسائی ہاوزنگ زمرہ میں بھی عوام کی ترجیح مہینگی جائیدادیں ہونے لگی ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ حیدرآباد کی رہائشی مارکٹ دوسرے شہروں کی طرح قابل توجہ تبدیلی اختیار کر رہی ہے اور اعلی معیاری مکانات عوام کی ترجیح اور پسند بننے لگے ہیں۔