اقتدار سے چمٹے رہنا مودی کی خواہش

   

امیت شاہ جانشین بننے کے خواہاں

رامچندر گوہا
کم از کم ایک سال سے یہ بات واضح تھی کہ بھارتی معیشت اچھی کارکردگی نہیں دکھا رہی تھی۔ روپیہ کمزور ہو رہا تھا، سرمایہ ملک سے باہر جا رہا تھا، نجی گھریلو سرمایہ کاری سست روی کا شکار تھی، صارفین کی طلب کمزور تھی، مینوفیکچرنگ جمود کا شکار تھی، اور امیر و غریب کے درمیان معاشی تفاوت تیزی سے بڑھ رہا تھا۔ بڑی آئی ٹی کمپنیوں کے حصص کی قیمتیں بھی گر رہی تھیں کیونکہ مصنوعی ذہانت (AI) ان کے کاروباری ماڈل کے لیے خطرہ بن کر ابھر رہی تھی۔ شیئر بازار کا ماحول بھی ان متعدد مسائل کی عکاسی کر رہا تھا، اور اہم اشاریے تقریباً وہیں تھے جہاں دو سال پہلے تھے۔
ان متعدد چیلنجوں کے ادراک نے پیشہ ور ماہرینِ معاشیات کو مسلسل مضامین لکھنے پر آمادہ کیا، جن میں مودی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ مسائل کی سنگینی کو تسلیم کرے اور مناسب اصلاحات کا آغاز کرے۔ ایسے مضامین امریکہ کی ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد زیادہ کثرت سے سامنے آئے، کیونکہ اس جنگ نے تیل، گیس، کھاد اور دیگر اشیائے صرف کی منڈیوں میں شدید غیر یقینی پیدا کر دی، جس سے ہمارے تجارتی توازن پر منفی اثر پڑا اور قلت پیدا ہوئی۔ اس جنگ کے باعث بیرونِ ملک سے آنے والی ترسیلاتِ زر میں بھی کمی آئی، جس سے ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر مزید کم ہو گئے۔
ماہرینِ معاشیات جن اصلاحات کی وکالت کرتے ہیں ان میں کسٹمز اور ٹیکس بیوروکریسی کے ساتھ ساتھ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے کام کو کم مانا اور کم انتقامی بنانا، صحت اور تعلیم پر سرکاری اخراجات میں اضافہ کرنا، محنت پر مبنی صنعتوں کو فروغ دینا، سرمایہ کاروں کے لیے یکساں مواقع پیدا کرنا تاکہ صرف چند پسندیدہ سرمایہ دار ہی سب سے زیادہ منافع بخش منصوبوں پر قبضہ نہ کر سکیں، کھاد اور بجلی کی سبسڈی میں کمی کرنا، بھارتیہ جنتا پارٹی کے زیرِ اقتدار نہ ہونے والی ریاستوں کے ساتھ امتیازی سلوک ختم کرنا، اور سب سے بڑھ کر، مرکزی حکومت کی معیشت سے متعلق وزارتوں میں موجود کم کارکردگی والے سیاست دانوں اور بیوروکریٹس کی جگہ زیادہ اہل اور قابل افراد کو تعینات کرنا شامل ہے۔ہمارے ممتاز ماہرین معاشیات کی یہ سفارشات تمام بھارتیوں کی فلاح اور معاشی تحفظ کو بہتر بنانے کے لیے پیش کی گئی ہیں، چاہے ان کا تعلق کسی بھی ذات، جنس، مذہب، علاقے یا سیاسی وابستگی سے ہو۔ ان تجاویز میں میں اپنی جانب سے ایک اور بات کا اضافہ کروں گا، اور وہ ہے ہماری ہوا، پانی، مٹی اور جنگلات کی مسلسل بگڑتی ہوئی حالت کو روکنے کی ضرورت۔سوال یہ ہے: کیا مرکزی حکومت ان سفارشات کو قبول کرے گی اور ان پر سنجیدگی سے عمل کرے ۔اگر اس حکومت میں واقعی اہمیت رکھنے والے صرف دو افراد، یعنی وزیرِ اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ، کے محرکات کا جائزہ لیا جائے تو اس سوال کا جواب غالباً نفی میں ہوگا۔
میرے خیال میں وزیرِ اعظم تین بنیادی خواہشات سے محرک ہیں۔پہلی یہ ہے کہ وہ ہر ممکن ذریعے سے زیادہ سے زیادہ عرصے تک اقتدار میں رہیں۔ وہ پہلے ہی 75 سال کی اس عمر سے آگے نکل چکے ہیں جسے انہوں نے اپنی جماعت کے رہنماؤں کو ’’مارگ درشک منڈل‘‘ میں بھیجنے کے لیے معیار قرار دیا تھا۔ اس کے باوجود، عمر بڑھنے اور توانائی میں کمی کے باوجود ان کے اقتدار چھوڑنے کے کوئی آثار نہیں دکھاتے۔ ان کی خواہش مسلسل چوتھا عام انتخاب جیتنے کی ہے تاکہ وہ جواہر لال نہرو کا ریکارڈ توڑ سکیں، ایک ایسی شخصیت جس پر وہ اعلانیہ تنقید کرتے ہیں لیکن بظاہر خفیہ طور پر اس سے حسد بھی رکھتے ہیں۔ مودی کی دوسری خواہش اپنے گرد شخصیت پرستی (Personality Cult)کو مزید فروغ دینا ہے۔ عوامی خزانے سے بڑی مقدار میں رقم اس شخصیت پرستی کو چمکانے پر خرچ کی گئی ہے، جس کا ثبوت پٹرول پمپوں، ہوائی اڈوں، ٹرینوں اور مرکزی حکومت کے زیرِ انتظام درجنوں دیگر مقامات پر ان کی تصاویر کی موجودگی ہے۔ وزیرِ اعظم کی خود پسندی کی کوئی حد نظر نہیں آتی۔ وہ ہمیشہ توجہ کا مرکز بننا چاہتے ہیں اور جہاں بھی جائیں، تعریف و عقیدت کا محور رہنا چاہتے ہیں۔
مودی کی تیسری خواہش ایک ’’ہندو راشٹر‘‘ قائم کرنا ہے، خواہ عملاً ہو یا قانونی طور پر۔ 2014 میں انہوں نے ’’سب کا ساتھ، سب کا وکاس‘‘ کا وعدہ کیا تھا، لیکن جلد ہی اس تصور کو ترک کر دیا۔ اب وہ خود کو صرف ہندوؤں کے رہنما کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ اس کی مثال ایودھیا رام مندر کی افتتاحی تقریب میں ان کا مرکزی کردار اور سومناتھ مندر کی تعمیرِ نو کی 75ویں سالگرہ کے موقع پر وسیع تشہیری مہم ہے۔
نریندر مودی کی تین خواہشات میں سے امت شاہ دو میں مکمل طور پر شریک ہیں: اپنے لیے زیادہ سیاسی طاقت حاصل کرنا اور ہندو اکثریت پسندی کو فروغ دینا۔ انتخابی انتظامات میں ان کی بڑھتی ہوئی مصروفیت اور حکومتی امور میں ان کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ خود کو اب مودی کا وفادار کارکن نہیں بلکہ ان کے ناگزیر سیاسی جانشین کے طور پر دیکھتے ہیں۔مودی کی طرح امت شاہ بھی ایک ہندو راشٹر قائم کرنا چاہتے ہیں، جہاں دوسرے مذاہب کے ماننے والے، خصوصاً مسلمان، دوسرے درجے کے شہری ہوں۔ تاہم وہ اس مقصد کے حصول کے لیے اپنے سربراہ سے بھی زیادہ شدت اور یکسوئی سے کوشش کرتے ہیں۔ وہ مسلسل بھارتی مسلمانوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں اور ایسی زبان استعمال کرتے ہیں جو وزیرِ داخلہ کے منصب کے شایان شان نہیں سمجھی جاتی۔
مودی اور شاہ اپنی سیاسی طاقت کو برقرار رکھنے اور مزید وسعت دینے کے جنون میں مبتلا ہیں۔ اب تک وہ یہ مقصد چار مختلف مگر باہم مربوط طریقوں کے ذریعے حاصل کرتے رہے ہیں۔ پہلا طریقہ ایک مضبوط ہندو ووٹ بینک کی تشکیل ہے، جس کے تحت اگر ہندوؤں میں یہ خوف پیدا کر دیا جائے کہ وہ دوسروں کے ہاتھوں مغلوب ہو جائیں گے۔مسلم اقلیت کے خلاف کافی خوف پیدا کر دیا جائے تو تقریباً 60 فیصد ہندو بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو ووٹ دیں گے، جس کے نتیجے میں اس کا مجموعی ووٹ شیئر 45 فیصد یا اس سے زیادہ ہو جائے گا، جو “فرسٹ پاسٹ دی پوسٹ” انتخابی نظام میں انتخابات جیتنے کے لیے کافی ہے۔دوسرا طریقہ خواتین اور کسانوں جیسے طبقات کو باقاعدہ مالی امداد فراہم کرنا ہے، جو اگرچہ معمولی ہو، لیکن ووٹروں کو یہ احساس دلاتی ہے کہ “کچھ تو مل رہا ہے، حکومت کم از کم ہمیں کچھ دے تو رہی ہے۔
تیسرا طریقہ عوامی اداروں، جیسے الیکشن کمیشن اور انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ، کو اپنے اثر و رسوخ میں لے کر سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا ہے۔چوتھا طریقہ چند منتخب سرمایہ داروں کو فروغ دینا ہے، جو بدلے میں حاصل ہونے والی مراعات اور ٹھیکوں کے عوض بی جے پی کی مالی معاونت فراخ دلی سے کرتے ہیں۔چونکہ یہ کالم معاشی بحران کے تناظر میں لکھا گیا ہے، اس لیے آخری نکتے پر مزید بات کرنا مناسب ہوگا۔ حکومتِ ہند کے ایک سابق چیف اکنامک ایڈوائزر نے ایک بار بھارت میں “بدنام سرمایہ داری کے دو اے (2A) ماڈل” کا ذکر کیا تھا۔ ایک امریکی تجارتی نمائندے نے اپنی یادداشتوں میں نسبتاً کم سخت انداز میں لکھا کہ بھارت میں اپنے تجربات کی بنیاد پر وہ اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ ملک کو پندرہ کاروباری شخصیات چلا رہی ہیں، یہاں تک کہ ایک بھارتی دوست نے ان کی اصلاح کرتے ہوئے کہا کہ درحقیقت حقیقی اثر و رسوخ صرف سات افراد کے پاس ہے۔
چاہے تعداد 2 ہو، 7 ہو یا 15، حقیقت یہ ہے کہ چند ہی کاروباری شخصیات بھارت کے سرمایہ دارانہ نظام سے غیر متناسب فائدہ اٹھاتی ہیں۔ دراصل ملک ایک ایسی اشرافی حکمرانی (اولیگارکی) کی شکل اختیار کر چکا ہے، جس کے مراعات یافتہ افراد حکمران نظام سے فائدے حاصل کرتے ہیں اور بدلے میں اس کا مناسب صلہ بھی دیتے ہیں۔جون 2013 میں کانگریس مرکز میں اور 14 ریاستوں میں اقتدار میں تھی، جبکہ بی جے پی صرف 4 ریاستی حکومتیں چلا رہی تھی۔ تیرہ سال بعد بی جے پی مسلسل تین عام انتخابات جیت چکی ہے اور اب 22 ریاستوں میں اقتدار میں ہے، جبکہ کانگریس صرف 5 ریاستوں تک محدود ہو گئی ہے۔
اس غیر معمولی تبدیلی کی ایک وجہ کانگریس کی کمزور قیادت ہے، لیکن اس سے بھی بڑی وجہ مودی-شاہ کی بی جے پی کا وہ کامیاب سیاسی فارمولا ہے جو ہندوتوا + سرکاری امدادیں + کمزور یا زیرِ اثر ادارے + اقربا پرور سرمایہ داری (Crony Capitalism) پر مبنی ہے۔یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ مودی-شاہ کی اس طاقت کے استحکام میں پریس کو دبانے اور جسے ’’گودی میڈیا‘‘ کہا جاتا ہے، اس کے فروغ نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ ٹیلی ویڑن کے معاملے میں حکومت صرف دباؤ ڈالنے تک محدود نہیں رہی بلکہ بعض نیوز اینکرز کو ایسے حملہ آور ترجمانوں میں تبدیل کر دیا گیا ہے جو اپوزیشن پر ہر قسم کی ناکامیوں اور خامیوں کا الزام لگاتے ہیں، جبکہ حکومت سے کوئی جواب طلبی نہیں کرتے۔دریں اثنا، معیشت بدستور کمزور کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ اگر خلیجی جنگ جاری رہی اور تیل کی قیمتیں مزید بڑھیں تو معیشت تنزلی کے ایک خطرناک چکر میں داخل ہو سکتی ہے۔ اسی تناظر میں ہمارے ماہرینِ معاشیات کی تعمیری اصلاحاتی تجاویز مزید اہمیت اختیار کر جاتی ہیں۔