اقلیتی بہبود کے امور سے حکومت اور عہدیداروں کو کوئی دلچسپی نہیں

   

وزیر اقلیتی بہبود کا جائزہ اجلاس لمحہ آخر میں ملتوی، اسکیمات پر عمل آوری اور فنڈز کی اجرائی اہم توجہ طلب مسائل
حیدرآباد۔/13 اپریل، ( سیاست نیوز) تلنگانہ میں محکمہ اقلیتی بہبود کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ اسکیمات کیلئے بجٹ کی اجرائی اور سرکاری جائیدادوں پر تقررات کے سلسلہ میں اقلیتی امیدواروں کو کوچنگ کی فراہمی جیسے اہم امور پر محکمہ اقلیتی بہبود کے اعلیٰ عہدیداروں کو کوئی دلچسپی دکھائی نہیں دیتی۔ وزیر اقلیتی بہبود کے ایشور جنہیں درج فہرست اقوام کی ترقی کا قلمدان دیا گیا ہے وہ اقلیتی امور پر بہت کم دلچسپی رکھتے ہیں۔ وزیر اقلیتی بہبود نے میناریٹیز اسٹڈی سرکلس کے ذریعہ اقلیتی امیدواروں کو ٹریننگ اور رمضان المبارک کے انتظامات اور چیف منسٹر کی دعوت افطار کے علاوہ اقلیتی فینانس کارپوریشن سے معاشی امدادی اسکیمات پر آج جائزہ اجلاس طلب کیا تھا لیکن لمحہ آخر میں اجلاس کو ملتوی کردیا گیا۔ وزیر اقلیتی بہبود کی دیگر مصروفیات کی بنا پر اجلاس کو ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب وزیر اقلیتی بہبود نے جائزہ اجلاس ملتوی کیا ہو۔ سابق میں بھی کئی اجلاس لمحہ آخر میں ملتوی کئے گئے۔ رمضان المبارک کے آغاز سے قبل شہر کے وزراء کے ساتھ جائزہ اجلاس منعقد کیا گیا تھا اس کے بعد وزیر اقلیتی بہبود نے رمضان کے انتظامات پر کوئی توجہ نہیں دی۔ اقلیتی اداروں کی کارکردگی ٹھپ ہوچکی ہے اور وقف بورڈ کی تشکیل میں تاخیر کی وجوہات پر راز کے پردے پڑے ہوئے ہیں۔ اقلیتی فینانس کارپوریشن اور اردو اکیڈیمی کی اسکیمات بجٹ کی کمی کے باعث عمل آوری سے قاصر ہیں۔ حج 2022 کے اعلان کے باوجود تلنگانہ حج کمیٹی کی تشکیل عمل میں نہیں لائی گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ متعلقہ وزیر کو اقلیتی بہبود کے امور سے کوئی خاص دلچسپی نہیں ہے اور سکریٹری اقلیتی بہبود احمد ندیم نے بھی انہیں اقلیتوں کے مسائل سے بروقت آگاہ نہیں کیا ہے۔ ر