اقلیتی طلبہ پر اردو و عربی کے بجائے ہندی و سنسکرت سیکھنے دباؤ

   

نان میناریٹی جونیر و ڈگری کالجس میں ناانصافی، لیکچررس کے تقرر سے گریز، اردو داں طبقہ توجہ دے
حیدرآباد۔/6 ڈسمبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دیا گیا ہے لیکن تعلیمی اداروں میں اردو اور عربی کی تعلیم کا کوئی نظم نہیں ہے جس کے نتیجہ میں مسلم طلبہ ان دونوں زبانوں سے دور ہورہے ہیں۔ سرکاری جونیر اور ڈگری کالجس میں اردو لیکچررس کی کمی اور اسکولوں میں اردو میڈیم اساتذہ کی قلت گذشتہ کئی برسوں سے برقرار ہے اور حکومت وقفہ وقفہ سے اردو میڈیم جائیدادوں پر تقررات کا وعدہ کرتی رہی ہے۔ بعض سرکاری کالجس میں گیسٹ فیکلٹی کے طور پر اردو لیکچررس کی خدمات حاصل کی گئی ہیں جبکہ عربی تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کو اساتذہ دستیاب نہیں۔ شہر کے کئی بڑے سرکاری ڈگری کالجس جن میں فلک نما، سٹی کالج اور بیگم پیٹ کالجس شامل ہیں جہاں عربی لیکچررس کا کوئی انتظام نہیں۔ جونیر کالجس میں اختیاری زبان کے طور پر جو طلبہ عربی اور اردو مضامین کی تعلیم حاصل کرنا چاہیں انہیں ہندی، تلگو یا سنسکرت کی تعلیم کا مشورہ دیا جارہا ہے۔ جونیر کالجس بورڈ آف انٹرمیڈیٹ ایجوکیشن کے تحت ہیں جبکہ ڈگری کالجس پر یونیورسٹی کا کنٹرول ہوتا ہے۔ سرکاری اور خانگی جونیر و ڈگری کالجس میں اردو اور عربی کے لیکچررس کی موجودگی یقینی بنانے کیلئے ارباب اقتدار کو فوری توجہ دینی چاہیئے۔ بتایا جاتا ہے کہ بشیر باغ میں واقع ایک مشہور خانگی ڈگری کالج میں تقریباً 150 طلبہ نے عربی کو اختیاری مضمون کے طور پر حاصل کیا ہے لیکن کالج انتظامیہ لیکچرر کے تقرر سے انکار کررہا ہے۔ اس کالج کی حیدرآباد میں کئی برانچس ہیں اور سرپرستوں نے شکایت کی ہے کہ طلبہ کو سنسکرت، تلگو یا ہندی سیکھنے کیلئے دباؤ بنایا جارہا ہے۔ طلبہ نے پیشکش کی کہ وہ اپنے خرچ پر عربی لیکچرر کا انتظام کرنے تیار ہیں لیکن کالج کی جانب سے اس کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔ شہر کے کئی نامور نان میناریٹی جونیر اور ڈگری کالجس میں زیر تعلیم اقلیتی طلبہ کو اردو اور عربی کی تعلیم کے سلسلہ میں دشواریوں کا سامنا ہے۔ ایک طرف ہم اردو زبان سے نئی نسل کی دوری کی شکایت کرتے ہیں لیکن سرکاری اور خانگی کالجس میں لیکچررس کے انتظام پر کوئی توجہ نہیں دی جاتی۔ حکومت کے علاوہ اردو داں طبقہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ سرکاری اور نان میناریٹی جونیر و ڈگری کالجس میں عربی اور اردو کے لیکچررس کی موجودگی کو یقینی بنائیں۔ نارائن گوڑہ میں واقع ایک مشہور کالج نے گذشتہ دنوں اقلیتی طلبہ کی سہولت کو نظرانداز کرکے عربی کے لیکچرر کی خدمات کو ختم کردیا۔ اگر نان میناریٹی کالجس میں عربی و اردو کی تعلیم کا انتظام کیا جائے تو نئی نسل مادری زبان و عربی سے محروم نہیں رہے گی۔ر