چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت نے واضح کردیا ۔ عدالت فارم 6 کا مشاہدہ کرے گی ۔ معاملہ کا گہرائی سے جائزہ لینے کا بھی ارادہ
نئی دہلی 5 اکٹوبر ( ایجنسیز ) سپریم کورٹ نے آج کہا کہ وہ الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ تبدیل شدہ فارم 6 کا جائزہ لے گا جو نئے ووٹر رجسٹریشن کیلئے ضروری ہے ۔ عدالت نے یہ بھی واضح کردیا کہ جو تبدیل شدہ فارم 6 ہے اسے سپریم کورٹ کی جانب سے منظوری نہیں دی گئی ہے ۔ چیفجسٹس آف انڈیا جسٹس سوریہ کانت نے ایک درخواست کی سماعت کے دوران یہ تبصرہ کیا ۔ یہ درخواست اس سوال کے ساتھ پیش کی گئی تھی کہ آیا چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار تنہا سارے سہ رکنی الیکشن کمیشن کو سونپے گئے اختیارات کا استعمال کرسکتے ہیں یا نہیں۔ الیکشن کمیشن میں مزید دو الیکشن کمشنران شامل ہیں۔ سپریم کورٹ نے فارم 6 کے مسئلہ پر کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے اورعدالت کی جانب سے گہرائی سے اس بات کا جائزہ لیا جائے گا اور ریکارڈز کا مشاہدہ کیا جائے گا ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ جب کبھی عدالت میں ریکارڈز پیش کئے جائیں گے ان کا جائزہ لیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ تبدیل شدہ فارم 6 کا مشاہدہ کریں۔ چیف جسٹس نے واضح کردیا کہ تبدیل شدہ فارم 6 کو ہم نے منظوری نہیں دی ہے ۔ الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ فارم 6 میں بجائے خود کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے ۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ اس میں صرف ایک اضافی ڈیکلیریشن کا اضافہ کیا گیا ہے جو نئے ووٹرس کی جانب سے داخل کیا جانا چاہئے ۔ یہ عمل ایس آئی آر کیلئے شروع کیا گیا تھا ۔ یہ اعلامیہ جاریہ سال جولائی میں شامل کیا گیاتھا اور اس کے ذریعہ نئے ووٹرس کیلئے ضروری تھا کہ وہ اپنی تفصیل والدین یا دادا دادی یا نانا نانی کے سابقہ ایس آئی آر میں نشامل ناموں کے ساتھ پیش کریں۔ 29 ستمبر کو ترنمول کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ساکی گوکھلے نے دعوی کیا تھا کہ آر ٹی آئی قانون کے تحت وزارت قانون سے اس تعل سے سوال کیا گیا تھا اور وزارت نے یہ کہا تھا کہ ای سی آئی کی جانب سے فارم 6 میں تبدیلی یا اس سے متعلق قوانین میں ترمیم کی کوئی اطلاع یا تجویز اسے موصول نہیں ہوئی ہے ۔مسٹر گوکھلے نے سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کا حوالہ دیا جو ماہ مئی میں دیا گیا تھا اور اس فیصلے کا چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے حوالہ دیتے ہوئے دعوی کیا تھا کہ عدالت نے فارم 6 میں تبدیلی سے مت علق الیکشن کمشین کے اختیارات کو قبول کیا ہے جبکہ اضافی ڈیکلیریشن کو اس کے دو ماہ بعد نافذ کیا گیا تھا ۔ ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ الیکشن کمیشن کے اس اقدام کو کس طرح درست قرار دے سکتا ہے جبکہ وہ ابھی نافذ ہی نہیں کیا گیا تھا ۔ آج سپریم کورٹ نے یہ واضح کردیا کہ فارم 6 کو عدالت کی جانب سے منظوری نہیں دی گئی ہے ۔