شعلہ بھڑک اٹھا مرے اس دل کے داغ سے
آخر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے
فی الحال ملک میں ایک عجیب و غریب صورتحال پیدا ہوئی ہے ۔ میڈیا رپورٹس میں الیکشن کمیشن کی کارکردگی کا بھانڈا پھوڑا گیا ہے ۔ کمیشن میں جاری داخلی خلفشار کو منظر عام پر لایا گیا ہے ۔ من مانی اور یکطرفہ فیصلوں کی حقیقت سے ملک کے عوام کو واقف کروایا گیا ہے ۔ اس پر ملک کی اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے الیکشن کمیشن سے کئی سوال پوچھے جا رہے ہیں۔ چیف الیکشن کمشنر کے رویہ پر تنقید کی جا رہی ہے اور ان سے استعفی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے ۔ اس ساری صورتحال میں الیکشن کمیشن کی جانب سے جواب دینے یا وضاحت کرنے کیلئے اتنی سرگرمی نہیں دکھائی جا رہی ہے تاہم بی جے پی اس سارے مسئلہ پر چارغ پا ہوگئی ہے اور وہ ہر مسئلہ کا اپنے انداز میں جواب دینے کی کوشش کر رہی ہے ۔ سوال الیکشن کمیشن سے پوچھا جا رہا ہے اور جواب بی جے پی دے رہی ہے ۔ اس طرح یہ الزامات تقویت پانے لگے ہیں کہ بی جے پی کے اشاروں پر الیکشن کمیشن کام کر رہا ہے اور بی جے پی چاہتی ہے کہ اپنے کالے کرتوتوں کا پردہ فاش نہ ہوجائے اسی لئے وہ کمیشن کے دفاع میں اتر آئی ہے ۔ حد تو یہ ہے کہ بی جے پی نے الیکشن کمیشن اور چیف الیکشن کمشنر سے سوال پوچھنے والے قائد اپوزیشن راہول گاندھی کو نشانہ بنانے کیلئے ایک یا دو نہیں بلکہ پورے ایک درجن چیف منسٹرس کو میدان میں جھونک دیا تھا ۔ اتوار کو بی جے پی کے 12 چیف منسٹروں نے اپنی اپنی ریاست میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے راہول گاندھی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور اپنا وہی رٹا پٹا انداز اختیار کرنے کی کوشش کی ہے ۔ بی جے پی جتنی شدت سے الیکشن کمیشن کو بچانے کی کوشش کر رہی ہے اتنی ہی تیزی سے الیکشن کمیشن اور خود بی جے پی کی ساکھ متاثر ہوتی چلی جا رہی ہے اور عوام میں جو شکوک و شبہات پیدا ہوئے تھے وہ مزید تقویت پا رہے ہیں ۔عوام میں یہ یقین کامل ہوتا جا رہا ہے کہ الیکشن کمیشن بی جے پی کی کٹھ پتلی کے طور پر کام کر رہا ہے اور بی جے پی اسے کنٹرول کر رہی ہے ۔ بی جے پی کی ضرورت سے زیادہ سرگرمی شبہات کو تقویت دے رہی ہے ۔
کانگریس قائد راہول گاندھی نے جب چند ماہ قبل ووٹ چوری کا بھانڈا پھوڑا تھا اس وقت بھی بی جے پی نے یہی کچھ طریقہ کار اختیار کیا تھا اور اپنے تلوے چاٹنے والے اینکرس کے ذریعہ اس کا جواب دینے کی کوشش کی تھی ۔ اس وقت راہول گاندھی کا جواب دینے کیلئے خود چیف الیکشن کمشنر نے پریس کانفرنس بھی کی تھی تاہم وہ کوئی اطمینان بخش جواب نہیں دے سکے تھے ۔ اس بار بھی راہول گاندھی نے جب کمیشن کو نشانہ بنایا ہے اور جواب طلب کیا ہے تو گیانیش کمار نے راست کوئی جواب نہیں دیا ہے ۔ وہ صرف کمیشن کا اجلاس طلب کرتے ہیں اور ایک پریس نوٹ جاری کرتے ہوئے وضاحت کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ تاثر عام ہورہا ہے کہ گیانیش کمار بھی اب میڈیا کے سوالات کا جواب دینے سے بچ رہے ہیں اور وہ پریس کاسامنا کرنا نہیں چاہتے ۔ بی جے پی اس بات کا کوئی جواز پیش نہیں کرسکتی کہ راہول گاندھی کو نشانہ بنانے کیلئے ملک کی 12 ریاستوں کے چیف منسٹروں کو پریس کانفرنس کرنے کی کیا ضرورت آن پڑی تھی ۔ راہول گاندھی نے کسی بھی ریاست کے چیف منسٹر کو اس تنازعہ میں گھسیٹا نہیں تھا اور صرف الیکشن کمیشن سے سوال کیا تھا ۔ چیف الیکشن کمشنر کو اپنے دونوں ساتھی الیکشن کمشنران کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے الزامات کا جواب دینے اور جو شبہات پیدا ہو رہے ہیں ان کی وضاحت کرنے کی ضرورت تھی لیکن یہ کام بی جے پی کرتی ہوئی نظر آرہی ہے ۔
اس مسئلہ پر بی جے پی اور خود الیکشن کمیشن کو بھی وضاحت کرنے کی ضرورت ہے کہ آخر ان دونوں میں کیا ساز باز ہے ۔ اگر نہیں ہے تو پھر بی جے پی کیوں جواب دینا اپنا فریضہ سمجھ رہی ہے اور الیکشن کمیشن پریس کا سامنا کیوں نہیں کرنا چاہتا ۔ جو سوالات پیدا ہوئے ہیں ان کا جواب کیوں نہیں دینا چاہتا ۔ کمیشن کی خاموشی اور بی جے پی کی ضرورت سے زیادہ مستعدی ان شبہات کو یقین میں بدل رہی ہے کہ دونوں میں مبینہ طور پر کوئی نہ کوئی ساز باز ضرور ہے جسے وہ چھپانا چاہتے ہیں۔