حیدرآباد ۔ 24 نومبر (سیاست نیوز) ملک میں پٹرول و ڈیزل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کے بعد الیکٹرک گاڑیوں کی مانگ میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے جو آلودگی سے پاک ہیں۔ حکومت نے الیکٹرک گاڑیوں پر تاحیات ٹیکس میں رعایت کا اعلان کیا جس کے بعد تمام شہریوں کی نظر ان گاڑیوں پر مرکوز ہیں۔ چارجنگ اسٹیشنس کی کمی کی وجہ سے صارفین الیکٹرک گاڑیوں کو خریدنے کیلئے فکرمند ہے۔ حکومت کی جانب سے تاحیات ٹیکس پر استثنیٰ سے صارفین کو 50 ہزار روپئے سے 42 لاکھ روپئے تک رعایت حاصل ہونے کی امید ہے۔ ڈھائی کروڑ کی بی ایم ڈبلیو کار پر 45 لاکھ روپئے تک رعایت حاصل ہوگی۔ گریٹر میں چارسو چارجنگ اسٹیشنس موجود ہیں جو موجودہ حالات کو پورا نہیں کرپارہے ہیں۔ مزید 100 اسٹیشنس کو قائم کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے جس سے الیکٹرک گاڑیو ںکی مانگ میں مزید اضافہ ہوگا۔ 400 چارجنگ اسٹیشن میں 52 مراکز حکومت نے قائم کئے ہیں باقی کے خانگی اداروں کے ہیں۔ ہوٹلوں، شاپنگ مالس، بڑے تجارتی اداروں میں چارجنگ کی سہولت موجود ہیں۔ آر ٹی سی ڈپوز میں بھی چارجنگ اسٹیشنس صرف بسوں کو چارجنگ تک ہی محدود ہیں۔ دیگر گاڑیوں کیلئے سہولت نہیں ہیں۔ حال ہی میں شمس آباد ایرپورٹ میں پارکنگ کے مقام پر تقریباً 100 چارجنگ یونٹس قائم کئے گئے۔ گاڑیوں کی تعداد میں اضافہ کے بعد ہر تین کیلو میٹر پر ایک چارجنگ مرکز قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ گزشتہ حکومت کے دور میں 600 چارجنگ یونٹس قائم کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا لیکن اب 400 یونٹس میں مزید 100 مراکز قائم کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا۔ ڈسکام کے مطابق چارجنگ مراکز کے ذریعہ تقریباً 200 ملین یونٹ تک پہنچ گئی ہے۔ موجودہ دور میں الیکٹرک گاڑیوں کی جانب عوام راغب ہیں۔ ش