الیکٹورل بانڈز کے ذریعہ بی آر ایس آمدنی میں دیگر پارٹیوں میں سرفہرست

   

5 علاقائی پارٹیوں کو 1.2 کروڑ کی آمدنی، بی آر ایس کو 529 کروڑ حاصل ہوئے

حیدرآباد۔/17 ڈسمبر، ( سیاست نیوز) ملک میں سیاسی پارٹیوں کی الیکٹورل بانڈز کے ذریعہ آمدنی میں اضافہ ہوا ہے۔ ملک کی پانچ علاقائی پارٹیوں نے 2022-23 کے دوران الیکٹورل بانڈز کے ذریعہ مجموعی طور پر 1243 کروڑ روپئے حاصل کئے ہیں۔ یہ پارٹیاں بی آر ایس، ترنمول کانگریس، ڈی ایم کے، بیجو جنتا دل اور وائی ایس آر کانگریس ہیں۔ پارٹیوں کی جانب سے سالانہ آڈٹ رپورٹ کے ذریعہ اس بات کا انکشاف ہوا ہے۔ 2021-22 میں ان سیاسی پارٹیوں کو 1338 کروڑ روپئے الیکٹورل بانڈز سے وصول ہوئے تھے۔ گذشتہ سال کے مقابلہ آمدنی میں قدرے کمی ہوئی ہے۔ بی آر ایس کو الیکٹورل بانڈز سے زائد آمدنی ہوئی۔ اپوزیشن نے الیکٹورل بانڈز اسکیم کی مخالفت کرتے ہوئے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ بانڈز کی اسکیم سے سب سے زیادہ فائدہ بی آر ایس کو ہوا ہے۔ بی آر ایس کو 2022-23 میں 529 کروڑ حاصل ہوئے جبکہ ایک سال قبل اسے محض 153 کروڑ الیکٹورل بانڈز سے حاصل ہوئے تھے۔ ترنمول کانگریس کی مجموعی آمدنی میں الیکٹورل بانڈز کا حصہ 97 فیصد ہے جبکہ ڈی ایم کے 86 ، بیجو جنتا دل 84 اور وائی ایس آر کانگریس کو70 فیصد آمدنی الیکٹورل بانڈز سے ہوئی ہے۔ عام آدمی پارٹی جو قومی پارٹی کی شکل اختیار کرچکی ہے 2022-23 میں الیکٹورل بانڈز سے 36.4 کروڑ حاصل ہوئے جبکہ 2021-22 میں 25.1 کروڑ حاصل ہوئے تھے۔ 5 علاقائی پارٹیوں نے 2022-23 کی سالانہ آڈٹ رپورٹ الیکشن کمیشن میں داخل کی ہے جس کے تحت بی آر ایس نے سب سے زیادہ 737.7 کروڑ کی آمدنی کا انکشاف کیا ہے جو 2021-22 میں 218 کروڑ تھی۔ ترنمول کانگریس کو 333.4 کروڑ کی آمدنی ہوئی جو گذشتہ کے مقابلہ کم ہے۔ ایک سال قبل اسے الیکٹورل بانڈز سے 545.7 کروڑ حاصل ہوئے تھے۔ ڈی ایم کے کی آمدنی 318 کروڑ سے گھٹ کر 214 کروڑ ہوگئی۔ بیجو جنتا دل نے 307 کروڑ کے مقابلہ 181 کروڑ حاصل کئے۔ وائی ایس آر کانگریس پارٹی کو الیکٹورل بانڈز سے 74.8 کروڑ حاصل ہوئے جبکہ گذشتہ سال اسے 83.7 کروڑ کی آمدنی ہوئی تھی۔ سی پی ایم کے سالانہ آڈٹ کے مطابق اسے 2021-22 میں 162.2 کروڑ حاصل ہوئے تھے جو 2022-23 میں گھٹ کر 141.7 کروڑ درج کئے گئے۔ بی جے پی، کانگریس اور دیگر قومی پارٹیوں کی آڈٹ رپورٹ الیکشن کمیشن نے برسر عام نہیں کی ہے۔