امریکہ اور ایران کے درمیان تکنیکی مذاکرات مکمل

,

   

جوہری پروگرام‘ پابندیوں اور دیگر امورپر 4 اہم ورکنگ گروپس کی تشکیل سے اتفاق
امریکہ۔ایران مذاکرات کی تکمیل کے بعد تیل کی قیمتوں میں کمی، آبنائے ہرمز سے سپلائی بحال

سوئٹزرلینڈ۔23؍جون( ایجنسیز)ایران اور امریکہ کے درمیان سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے تکنیکی مذاکرات اختتام پذیر ہوگئے ہیں جہاں دونوں ممالک نے مستقبل کے مذاکرات کو آگے بڑھانے کیلئے مختلف شعبوں میں مشترکہ ورکنگ گروپس قائم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے آئی آر این اے کے مطابق ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے بتایا کہ مذاکرات کے دوران فیصلہ کیا گیا ہے کہ اہم امور پر پیش رفت کیلئے چار الگ الگ ورکنگ گروپس قائم کئے جائیں گے ۔کاظم غریب آبادی کے مطابق پہلا ورکنگ گروپ اقتصادی پابندیوں کے خاتمہ، دوسرا جوہری امور، تیسرا تعمیر نو اور معاشی ترقی جبکہ چوتھا گروپ معاہدے پر عمل درآمد اور نگرانی کے معاملات پر کام کرے گا۔امریکہ ایران مذاکرات کے بعد تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی، آبنائے ہرمز سے سپلائی بحال ہونے لگی۔ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ان ورکنگ گروپس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے ابتدائی فریم ورک کو عملی شکل دینا اور اختلافی امور پر تکنیکی سطح پر پیش رفت ممکن بنانا ہے۔مبصرین کے مطابق ورکنگ گروپس کا قیام اس بات کا اشارہ ہے کہ دونوں فریق مذاکراتی عمل کو محض سیاسی بیانات تک محدود رکھنے کے بجائے عملی اور تکنیکی سطح پر آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔ خاص طور پر جوہری پروگرام، اقتصادی پابندیوں میں نرمی، ایران کے منجمد اثاثوں کی واپسی اور اقتصادی تعاون جیسے موضوعات آئندہ مذاکرات میں مرکزی حیثیت اختیار کر سکتے ہیں۔یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حالیہ امریکہ۔ایران مفاہمتی عمل کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری کی امیدیں پیدا ہوئی ہیں تاہم متعدد حساس معاملات پر ابھی مزید مذاکرات اور اتفاق رائے درکار ہے۔دریں اثناء ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ مذاکرات کی تکمیل کے بعد مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں کمی کی امید پیدا ہوئی ہے جبکہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مزید کمی دیکھی گئی ہے جبکہ سرمایہ کاروں کی توجہ آبنائے ہرمز کے ذریعہ تیل کی ترسیل کی بحالی پر مرکوز ہے۔ رائٹرز کے مطابق پیر کے روز برینٹ کروڈ آئل کی قیمت میں 1.4 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی جس کے بعد برینٹ کروڈ 76.81 ڈالر فی بیرل پر آ گیا۔ ماہرین کے مطابق مذاکرات کے بعد آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی آمدورفت بتدریج بحال ہو رہی ہے جس سے عالمی منڈی میں سپلائی سے متعلق خدشات کم ہوئے ہیں۔ سرمایہ کار اس بات پر نظر رکھے ہوئے ہیں کہ آیا دونوں ممالک کسی حتمی معاہدے تک پہنچتے ہیں یا نہیں کیونکہ اس کا براہِ راست اثر عالمی توانائی منڈیوں پر پڑ سکتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی سپلائی مکمل طور پر معمول پر آجاتی ہے تو آنے والے دنوں میں تیل کی قیمتوں پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے تاہم خطے کی مجموعی صورتحال اب بھی حساس اور غیر یقینی ہے۔