اسٹیوونکوف اور جیرڈکشنر فی الحال قطر میں موجود لیکن کسی اعلیٰ سطحی اجلاس کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا
دوحہ ۔ 30 جون (ایجنسیز) قطر کی وزارت خارجہ نے منگل کے روز کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان کسی ملاقات کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر ثالثوں سے ملاقات اور مذاکرات پر بات چیت کیلئے قطر میں موجود ہیں۔قطری وزارت خارجہ نے مزید کہا کہ وٹکوف اور کشنر فی الحال ایرانی حکام سے براہ راست ملاقات نہیں کریں گے۔قطری وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ وٹکوف اور کشنر ثالثوں سے ملنے اور مذاکرات پر تبادلہ خیال کیلئے آئے ہیں اور دوحہ میں واشنگٹن اور تہران کے درمیان کسی اعلیٰ سطحی اجلاس کا فیصلہ نہیں ہوا ہے۔ترجمان نے مزید کہا کہ قطر آبنائے ہرمز اور جہازوں کی محفوظ نقل و حمل کے حوالے سے سلطنت عمان کے ساتھ رابطہ کاری کر رہا ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ ایران کے 6 ارب ڈالر کے منجمد اثاثے ابھی تہران منتقل نہیں ہوئے ہیں اور یہ 2023ء کے معاہدے کے تحت ہیں اور صرف انسانی ضروریات کی اشیاء کی خریداری کیلئے مختص ہیں۔تہران اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات سے متعلق تازہ ترین پیش رفت میں یہ طے پایا تھا کہ ایران اور امریکہ کی مذاکراتی ٹیمیں آج منگل کو دوحہ پہنچیں گی اگرچہ تہران نے فریقین کے درمیان ملاقات کیلئے کسی تاریخ کے تعین کی تردید کی ہے۔ویب سائٹ ایکسیوس نے وائٹ ہاؤس کے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ امریکی صدر کے خصوصی ایلچی اسٹیون وٹکوف اور امریکی صدر کے داماد جیرڈ کشنر آج منگل کو دوحہ میں ہونے والی ملاقات کے دوران قطری وزیراعظم محمد بن عبدالرحمن الثانی کے ساتھ ایرانی جوہری پروگرام سے متعلق ممکنہ معاہدے پر تبادلہ خیال کریں گے۔وٹکوف اور کشنر قطری قیادت کے دیگر نمائندوں کے ساتھ بھی ملاقاتوں کا منصوبہ رکھتے ہیں۔ امریکی اور ایرانی وفود کل چہارشنبہ کے روز قطر اور پاکستان کے ثالثوں کے ساتھ الگ الگ مذاکرات کریں گے۔آج کا یہ اجلاس دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور آبنائے ہرمز کے ایک بار پھر علاقائی اور بین الاقوامی منظرنامے کے مرکز میں آنے کے تناظر میں ہو رہا ہے جبکہ عالمی توانائی کی سپلائی کے تحفظ اور جوہری مذاکرات کے مستقبل کے بارے میں خدشات بڑھ رہے ہیں۔مفاہمت کی یادداشت پر عمل درآمد کیلئے 60 دن کی مہلت کے باوجود معاہدے کی خلاف ورزی کے دونوں جانب سے تبادلہ الزامات کشیدگی کے راستے کو روکنے اور خطے کو دوبارہ تصادم کے دائرے میں دھکیلنے کی دھمکی دے رہے ہیں۔امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے توقع ظاہر کی کہ دوحہ میں امریکہ اور ایران کے درمیان آج ہونے والی ملاقات اہم ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ہر کوئی بعد میں اس بارے میں جان جائے گا۔ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ ایران نے ہی ملاقات کی درخواست کی تھی اور اس بات کی تصدیق کی کہ امریکی وفد قطر جانے کیلئے تیار ہے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکی وفد کی قیادت خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کر رہے ہیں۔دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی ایک ٹویٹ میں اس بات کی تصدیق کی کہ ایران مفاہمت کی یادداشت کے مطابق اپنے وعدوں کو پورا کرے گا بشرطیکہ امریکہ بھی ان کی پابندی کرے۔پزشکیان نے کہا کہ اشتعال انگیز بیانات اور دھمکیوں کے سامنے ایران کا طریقہ کار عقلیت اور عملدرآمد کے وقت فیصلہ کن دفاع پر مبنی ہے۔
ایران نے اس سے قبل تکنیکی سطح پر امریکیوں کے ساتھ بات چیت کے منصوبوں کی تردید کی تھی اور اپنی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کی زبان سے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ ایک ماہر وفد اس ہفتے کے آخر میں دوحہ جائے گا تاکہ مفاہمت کی یادداشت کے تحت وعدوں پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔
امریکہ اور ایران حملے روکنے پر متفق ہونے کے بعد
اب مذاکرات کی میز پر بیٹھیں گے
واشنگٹن، 30 جون (یو این آئی) امریکہ اور ایران ایک دوسرے پر حملے روکنے پر متفق ہونے کے بعد اب مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کیلئے تیار ہیں، تاہم ملاقات کی نوعیت کے حوالے سے دونوں ممالک کے بیانات میں تضاد پایا جا رہا ہے ۔ میڈیا کے مطابق ایران کے ساتھ ان تکنیکی مذاکرات میں امریکہ کی جانب سے اسٹیو وٹکوف اور جارڈ کشنر نمائندگی کریں گے ، جبکہ تکنیکی وفود چہارشنبہ کو علیحدہ علیحدہ مذاکرات کریں گے ۔ اس پورے عمل میں قطر اور پاکستان ثالث کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ آج دوحہ میں ایران کے وفد سے مذاکرات ہوں گے ، جس کیلئے ایران نے خود درخواست کی ہے ۔ دوسری جانب ایران نے امریکی ٹیم سے براہِ راست ملاقات کی سختی سے تردید کی ہے ۔ ایرانی نائب وزیرِ خارجہ کاظم غریب آبادی کا کہنا ہے کہ امریکہ سے براہِ راست بات چیت کا کوئی منصوبہ نہیں ہے اور قطر کے ساتھ صرف معمول کی مشاورت جاری ہے ۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ کے ساتھ سفارتی امور اور مشاورت کا سلسلہ صرف ثالث ملکوں کے ذریعے ہی چل رہا ہے اور تاریخ و مقام طے ہونے کے بعد تکنیکی مذاکرات مناسب وقت پر ہوں گے ۔ اسی دوران عمان میں امریکپ کے سابق سفیر رچرڈ شرمِر نے انکشاف کیا ہے کہ حالیہ شدید کشیدگی کے بعد بھی پاکستان کی کامیاب ثالثی کی وجہ سے ہی واشنگٹن اور تہران دوبارہ مذاکرات پر آمادہ ہوئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تازہ جھڑپیں اور حملے بند کرانے میں بھی پاکستان نے کلیدی کردار ادا کیا ہے ۔