امریکی سفارتخانہ کی شکایت ، جانچ میں سختی پیدا کرنے کا فیصلہ
حیدرآباد۔13اپریل(سیاست نیوز) امریکہ روانگی کے خواہشمند طلبہ کی جانب سے فرضی دستاویزات جمع کروائے جانے کے واقعات کے بعد امریکی سفارتخانہ اور قونصل خانہ کی جانب سے دستاویزات کی جانچ میں مزید سختی اور بہتری لانے کے اقدامات کئے جانے لگے ہیں۔ ریاست تلنگانہ اور آندھراپردیش سے تعلق رکھنے والے طلبہ کی جانب سے امریکی سفارتخانہ دہلی میں امریکہ روانگی کے لئے انٹرویو کے دوران جو دستاویزات جمع کروائے ہیں ان میں فرضی دستاویزات بھی شامل ہیں اور اس کے علاوہ بینک کھاتوں میں جمع رقومات کے علاوہ کام کاج کے تجربہ کے مکتوب بھی فرضی جمع کروائے گئے ہیں جس پر امریکی سفارتخانہ کی جانب سے دہلی پولیس میں ایک شکایت درج کروائی جاچکی ہے اور کہا جا رہاہے کہ دہلی پولیس نے اس شکایات کا جائزہ لینے کے بعد تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔ امریکہ روانگی کے لئے فرضی تعلیمی اسنادات کے علاوہ بینک کے کھاتوں کی فرضی تفصیلات حتیٰ کہ بسا اوقات جھوٹے مکتوب حوالہ کرتے ہوئے داخلہ حاصل کر رہے ہیں اور ان داخلوں کی بنیاد پر ویزا کے لئے انٹرویو دیا جا رہاہے اور دوران انٹرویوں پیش کئے جانے والے اسنادات کے سلسلہ میں کہا جا رہا ہے کہ ریاست تلنگانہ اور آندھراپردیش سے تعلق رکھنے والے نوجوان بینک کھاتوں کے فرضی اندراجات کے علاوہ کام کاج کے تجربہ کے فرضی مکتوب اور تعلیمی اسناد منسلک کرنے کے مرتکب پائے گئے ہیں۔ بتایاجاتاہے کہ امریکہ میں موجود امریکی سفارتخانہ کی جانب سے کی جانے والی اس شکایت کے بعد دونوں ریاستوں کے طلبہ جو اعلیٰ تعلیم کے لئے امریکہ روانہ ہونے کے خواہشمند ہیں ان کے اسناد اور دستاویزات کی تنقیح میں شدت پیدا کرنے کا فیصلہ کیاگیا ہے۔ ذرائع کے مطابق امریکہ روانگی کے خواہشمند طلبہ اور ان کے والدین و سرپرستوں کو امریکی ویزاکے لئے انٹرویو اور اسناد و دستاویزات کی تنقیح کے معاملہ میں ایجنٹس کی جانب سے گمراہ کرتے ہوئے ان سے بھاری رقومات وصول کی جا رہی ہیں ۔ ایک تا3لاکھ روپئے میں تعلیمی اسنادات‘ 50تا75ہزار میں بینک کھاتہ میں رقومات جمع کرواتے ہوئے وصول کئے جا رہے ہیںاور تجربہ کے مکتوب و اسناد کے لئے 5تا10 ہزار روپئے وصول کرنے کے علاوہ داخلہ کے بعد جب طلبہ کا i20 یعنی داخلہ کی توثیق آجاتی ہے تو ایسی صورت میں انہیں ویزاکے لئے انٹرویو کی تاریخ کے حصول کے لئے 20تا 25 ہزار روپئے ادا کرنے کے لئے مجبور کیا جا رہاہے جبکہ قونصل خانہ کے عہدیدارو ںنے بتایا کہ طلبہ کو ان کے داخلہ اور کلاسس کے آغاز سے قبل ممکنہ حد تک انٹرویو کے لئے وقت فراہم کرنے کی کوشش کی جار ہی ہے اور ملک بھر کے کسی بھی قونصل خانہ یا سفارتخانہ میں درخواست گذار کو ویزا کے لئے انٹرویو دینے کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔م