امریکہ میں تارکین وطن کی تعداد پرکنڑول کیلئے نئے اقدامات زیرغور

   

واشنگٹن : بائیڈن انتظامیہ نے منگل کے روز ایک منصوبہ پیش کیا ہے جس کے تحت حکومت کو، امریکہ میں پناہ کے متلاشی تارکینِ وطن کی تعداد کم کرنے اور انہیں فوری طور پر وطن واپس بھیجنے کا اختیار حاصل ہو جائے گا۔ یہ منصوبہ جو امریکہ۔ میکسیکو سرحد پر تارکینِ وطن کی تعداد کم کرنے کی انتظامیہ کی کوششوں کا حصہ ہے، مؤثر ہونے سے پہلے ہی تارکین وطن کے حامیوں کی نکتہ چینی کا شکار ہو سکتا ہے۔اس منصوبے کے تحت ایسے تارکینِ وطن جو امریکہ میں داخل ہونے کے لیے موجود راستے اختیار نہیں کرتے یا کسی اور ملک میں جس سے وہ گذر کر آرہے ہوتے ہیں، انسانی ہمدردی کی بنیاد پر پناہ حاصل کرنے میں ناکام رہتے ہیں اور امریکہ پہنچنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں، تو استثنیٰ کے بغیرانہیں پناہ کے لیے مستحق خیال نہیں کیا جائے گا۔ایسے لوگ جو استثنیٰ کے حقدار نہیں ہیں یا یہ ثابت کرنے میں ناکام رہتے ہیں کہ انہوں نے کسی اور ملک میں پناہ حاصل کرنے کی کوشش کی تھی، انہیں کسی امیگریشن جج کے سامنے پیش ہونے کا موقع دیے بغیر فوری طور پر ان کے ملک واپس بھیج دیا جائے گا۔