لندن: عالمی عدالت انصاف (آئی سی جے) نے اپنے فیصلے میں کیا ہے کہ امریکہ نے کچھ ایرانی اثاثے منجمد کرکے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔اس نے امریکہ کو ایران کواس کا ہرجانہ (معاوضہ) ادا کرنے کا حکم دیا ہے، جس کی رقم کا تعین بعد کے مرحلے میں کیا جائے گا۔دی ہیگ میں قائم عالمی عدالت انصاف نے ایران کے اس دعوے پر فیصلہ سنایا ہیکہ امریکہ نے عدالتوں کوغیر قانونی طور پر ایرانی کمپنیوں کے اثاثے منجمد کرنے کا اختیاردیا تھا۔یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیاہے جب گذشتہ ہفتے شام میں ایران کی حمایت یافتہ فورسزاور امریکی اہلکاروں کے درمیان مہلک جھڑپیں ہوئی ہیں اورانھوں نے ایک دوسرے کو فضائی اورزمینی بمباری کا نشانہ بنایا ہے۔اس کے بعد سے امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں مزیداضافہ ہوا ہے۔اس وقت ایران اور بڑی عالمی طاقتوں کے درمیان 2015میں طے شدہ جوہری معاہدے کو بحال کرنے کی کوششیں تعطل کا شکار ہیں اور روس کی جانب سے یوکرین کے خلاف ایرانی ڈرون کے استعمال کی اطلاعات کے بعد تعلقات مزید کشیدہ ہیں۔عالمی عدالت انصاف میں ایران نے واشنگٹن کے خلاف یہ مقدمہ 2016ء میں 1955ء کے دوستی معاہدے کی مبینہ خلاف ورزی پردائر کیا تھا۔اس کے تحت امریکی عدالتوں کو ایرانی کمپنیوں کے اثاثے منجمد کرنے کی اجازت دی گئی تھی اورامریکہ میں ایران کے مرکزی بینک کی 1.75 ارب ڈالرکی خطیررقم بھی ضبط کرلی گئی تھی۔یہ رقم دہشت گردی کے حملوں کے متاثرین کو معاوضے کے طور پر دی جاناتھی۔امریکہ کا کہنا تھا کہ عالمی عدالت انصاف کو اس پورے کیس کو خارج کر دینا چاہیے کیونکہ ایران کے ’’ہاتھ ناپاک‘‘ہیں اور اثاثوں کی ضبطی تہران کی جانب سے مبینہ طورپردہشت گردی کی سرپرستی کا نتیجہ ہے جبکہ ایران بین الاقوامی دہشت گردی کی حمایت سے انکار کرتا ہے۔
1950کی دہائی میں دوستی کا معاہدہ ایران کے 1979 کے انقلاب سے بہت پہلے طے پایاتھا۔اس انقلاب نے امریکہ کے حمایت یافتہ رضا شاہ پہلوی کا تختہ الٹ دیا تھااور اس کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان دوطرفہ تعلقات منقطع ہوگئے تھے۔ایران میں نیا نظام آنے کے بعد دوستی معاہدے کی کوئی حیثیت نہیں رہی تھی اورواشنگٹن بالآخر 2018 میں اس دوستی معاہدے سے دستبردارہو گیا۔ اقوام متحدہ کی سب سے بڑی عدالت آئی سی جے کے فیصلے لازم ہیں، لیکن اس کے پاس ان کے نفاذ کا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔امریکہ اور ایران ان معدودے چند ممالک میں شامل ہیں جنھوں نے ماضی میں اس کے فیصلوں کونظراندازکیا ہے اور ان پرعمل درآمد نہیں کیا۔