واشنگٹن ۔ 28 جولائی (ایجنسیز) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کا خیال ہے کہ ایران کو کمزور کرنے کیلئے معاشی پابندیاں فوجی حملوں کے مقابلے میں زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتی ہیں، اگرچہ حالیہ امریکی فضائی کارروائیوں نے مالی دباؤ کے مقابلے میں زیادہ توجہ حاصل کی ہے۔ایکسِیوس کی رپورٹ کے مطابق امریکی انتظامیہ کے سینئر حکام کا کہنا ہے کہ ایران کی معاشی صورتحال تیزی سے بگڑ رہی ہے اور سخت اقتصادی پابندیاں، بحری ناکہ بندی کے ساتھ مل کر، ایسے دباؤ کے ذرائع ہیں، جو بالآخر تہران کو مذاکرات کی میز پر رعایتیں دینے پر مجبور کر سکتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق ایک سینئر امریکی عہدیدار نے کہا کہ ایرانی قیادت چاہتی ہے کہ بمباری رک جائے، لیکن اسے اس سے بھی زیادہ پیسوں کی ضرورت ہے۔ان کے مطابق تہران کی اولین ترجیح معاشی دباؤ میں کمی، منجمد اثاثوں کی رہائی اور امریکی پابندیوں کا خاتمہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق امریکی انٹلیجنس کے تخمینوں اور دستیاب عوامی معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کا معاشی بحران مسلسل گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ان اشاروں میں ایندھن کی قلت بھی شامل ہے، حالانکہ ایران دنیا کے سب سے بڑے تیل کے ذخائر رکھنے والے ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ مالی دباؤ نے ایران کی اپنے اتحادی گروہوں کی مالی معاونت کی صلاحیت کو بھی متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔ان کے مطابق انٹلیجنس رپورٹس میں ایسی شکایات سامنے آئی ہیں کہ ایران سے وابستہ جنگجوؤں کو ادائیگیاں کرنے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ عہدیدار نے بینکاری کے شعبے پر بڑھتے ہوئے دباؤ، بینکوں سے بڑے پیمانے پر رقوم نکالے جانے کے خدشات، پٹرول کی مسلسل قلت اور نقدی کی کمی کا بھی ذکر کیا۔