امریکہ کے سان ڈیاگو کی مسجد میں فائرنگ، 5افرادجاں بحق

,

   

مہلوکین میں دو حملہ آوراور مسجد کا سیکوریٹی گارڈ بھی شامل

واشنگٹن ۔19؍ مئی ( ایجنسیز )امریکہ میں مسجد کے اندر فائرنگ کے واقعہ میں پانچ افراد ہلاک ہو گئے ہیں جن میں فائرنگ کرنے والے دو نوجوان بھی شامل ہیں۔میڈیا کے مطابق واقعہ ریاست کیلیفورنیا کے شہر سان ڈیاگو کے ایک اسلامک سنٹر (مسجد) میں پیر کواس وقت پیش آیا جب دو مسلح نوجوان مسجد کے اندر گھس گئے اور سکیورٹی گارڈ کو گولی مار دی جبکہ اندر موجود افراد پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں دو مزید افراد ہلاک ہوئے۔پولیس کے پہنچنے پر معلوم ہوا کہ حملہ آور نوجوان بھی گولی لگنے سے ہلاک ہو گئے ہیں اور بظاہر یہ لگ رہا ہے کہ انہوں نے خود کو شوٹ کیا۔سان ڈیاگو میکسیکو کی سرحد کے قریب واقع ہے اور پولیس نے جائزے کے بعد مقام کو محفوظ قرار دیا ہے۔سان ڈیاگو پولیس کے سربراہ سکاٹ واہل کا کہنا ہے واقعہ کی ہیٹ کرائم کے طور پر تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ کہلوکین میں مسجد کا سکیورٹی گارڈ بھی شامل ہے ۔یہ اسلامک سنٹر سان ڈیاگو کی سب سے بڑی مسجد ہے اور اس کے اندر الرشید اسکول بھی موجود ہے جہاں پانچ سال اور اس سے زیادہ عمر کے بچوںکو عربی زبان، اسلامی علوم اور قرآن کورسز آفر کرتا ہے۔سکاٹ واہل کے مطابق ’تمام بچے محفوظ ہیں۔ مسجد کے ڈائریکٹر امام طلحہ حسن نے عبادت کے مقام کو نشانہ بنانے کو شرمناک قرار دیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس خوبصورت شہر میں تمام عبادت گاہوں کی ہمیشہ حفاظت ہونی چاہیے۔کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز نے فائرنگ کے واقعے کی مذمت کی ہے۔ اس کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر تزئین نظام نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’عبادت میں شرکت یا ایلیمنٹری سکول میں پڑھائی کے وقت کسی کو بھی اپنی سلامتی سے متعلق خوف نہیں ہونا چاہیے۔‘ ایک سکیورٹی ذریعے نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایجنسی کو بتایا کہ دونوں مشتبہ ملزمان ہلاک ہو چکے ہیں، تاہم ابھی تک ان کی ہلاکت کے طریقے یا اس کارروائی کے حالات کے بارے میں مزید تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں۔امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اس واقعہ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک ’’خوفناک معاملہ‘‘ ہے۔ سان ڈیاگو کے پولیس چیف سکاٹ وول نے کہا کہ مقامی وقت کے مطابق دوپہر 12 بجے سے کچھ دیر پہلے ہونے والی فائرنگ کے بعد، مسجد کے احاطے سے منسلک ڈے کیئر اسکول میں موجود تمام بچوں کے مقامات اور ان کی حفاظت کی تصدیق کر لی گئی ہے۔ یہ مسجد سان ڈیاگو کاؤنٹی کی سب سے بڑی مسجد ہے۔ وول نے مزید کہا کہ واقعہ کی تحقیقات میں مدد کیلئے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف بی آئی) کو طلب کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکام اسے ایک ’نفرت انگیز جرم‘ قرار دے رہے ہیں۔