امریکی ایف بی آئی بشنوئی اور دوسری ہندوستانی ٹولیوں کے تعاقب میں

   

روش کمار
ہمارے وطن عزیز ہندوستان ہی نہیں بلکہ امریکہ، کینیڈا اور یوروپ کے کئی ملکوں میں بشنوئی گینگ کا ڈروخوف پایا جاتا ہے۔ یہ وہی ٹولی ہے جس نے سوپراسٹار سلمان خان سے لیکر بے شمار شخصیتوں کو جان سے مارنے کی دھمکی دی ہے اور حال ہی میں امریکی ایف بی آئی نے کینیڈا و یوروپ کی ایجنسیوں کے ساتھ مل کر بشنوئی گینگ کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیاں کی دھاوے کئے اور درجنوں ملزمین کو گرفتار بھی کیا۔ لارنس بشنوئی، جگو بھگوان پوریہ، رویندر ڈانڈا تین تین ٹولیوں کے سرغنہ ہندوستانی سرزمین سے امریکہ، کینیڈا اور یوروپ میں چن قتل، سیاسی قتل، اغواء، بھتہ خوری اور منشیات کی اسمگلنگ کے نٹ ورکس چلارہے ہیں۔ لارنس بشنوئی اور بھگوان پوریہ اب ہندوستان کی جیلوں میں بند ہیں۔ دونوں بی جے پی زیراقتدار ریاستوں کی جیلوں میں ہیں مگر یہ جیلیں ان کے انٹرنیشنل کھیل کو صحیح طریقہ سے اجاگر کرتی ہے۔ امریکہ کی ایف بی آئی جس نے کینیڈا اور یوروپ کی مدد سے کئی ملکوں میں کارروائیاں انجام دیں، خصوصی آپریشن انجام دیئے جن کا نام آپریشن ہارٹ بال ہے تین تین براعظموں کی تحقیقاتی ایجنسیوں نے مل کر ان تینوں ٹولیوں کے 24 ارکان کو گرفتار کیا ہے اور ان میں سے 11 ملزمین امریکہ میں گرفتار کئے گئے ہیں۔ آپریشن ہاٹ بال سے جڑے سوال وزیراعظم نریندر مودی، وزیرخارجہ ایس جئے شنکر، وزیرداخلہ، امیت شاہ اور مشیر قومی سلامتی اجیت دھوال کی میز تک بھی پہنچیں گے کیونکہ ان گرفتاریوں کے تار کینیڈا کے شہری ہردیپ سنگھ نجر کے قتل اور نیویارک میں پنون کے قتل کی کوشش سے بھی جڑتے ہیں جسے لیکر کینیڈا اور امریکہ نے ہندوستان کی خفیہ ایجنسیوں کے ایجنٹ پر الزام عائد کئے تھے کہ حکومت کے کردار پر الزامات عائد کئے تھے اس کا مطلب صاف ہے امریکہ اب بھی پنو کے قتل کی کوشش کیس کی جانچ میں دلچسپی رکھتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ نجر کے قتل کی سازش کی جڑوں تک وہ پہنچنا چاہتے اسے فراموش نہیں کیا۔ لارنس بشنوئی کو ان دو معاملوں میں امریکہ نے اپنی حراست میں مانگا ہے۔ دوسرے ملک کی زمین پر قتل کرنے کے اس کھیل کو دھرندر قسم کے دیوانے تجزیہ نگاروں نے سوپر پاور بننے کی آہٹ کی شکل میں بتایا تھا لیکن معاملہ کچھ اور نکلتا جارہا ہے جو ہندوستان امریکہ کو سافٹ ویر انجینئرس کی سپلائی کررہا تھا۔ اس ہندوستان سے امریکہ میں خطرناک مجرمین بھی بھیجے جارہے ہیں اور یہ سب ہندوستان کی جیلوں میں ہند ٹولیوں اور ان کے سرغنوں کی ایما پر ہورہا ہے۔ اتنا بڑا داغ دھبہ آج تک ملک کی ساکھ پر نہیں لگا۔ دنیا بھر میں رہنے والے ہندوستانی نژاد باشندوں کو بہت دکھ پہنچے گا۔ بشنوئی اور بھگوان پوریہ کی ٹولیوں کو کنٹرول کرنے میں حکومت ہند کی ایجنسیوںکو امریکہ اور یوروپ سے زیادہ اہم کردار ادا کرنا چاہئے تھا مگر دنیا کے سامنے ہندوستان کی پولیس نظم و ضبط کی پول کھل گئی۔ ایف بی آئی نے صاف صاف کہا ہیکہ ہندوستان کی جیلوں میں ہند ٹولیوں کے سرغنہ ہندوستان میں عہدیداروں کو رشوت دیکر اپنا نٹ ورک چلارہے ہیں۔ تین بین الاقوامی ٹولیاں ہندوستان کی سرزمین سے چلنے والے ان کے ارکان کو امریکہ پکڑتا ہے تو سوال ہندوستان کے پولیس ٹیم پر اٹھے گا۔ امریکہ نے ہندوستانی سرزمین سے چل رہے ٹولیوں کے صرف 24 ارکان کو گرفتار نہیں کیا بلکہ ہندوستان کی پولیس کو بھی ان کے ساتھ ملے ہونے کے ثبوتوں کے ساتھ رنگے ہاتھوں پکڑ لیا ہے۔ کس تھاٹ سے ایف بی آئی نے کہا کہ امریکہ کا سسٹم ایسا ہے کہ ہمارے پاس دوسرے ملکوں میں بھی پہنچ رکھنے کی طاقت اور صلاحیت ہے۔ ایف بی آئی نے کہا ہیکہ بشنوئی کو جیل میں فون اور انٹرنیٹ کے دوسری سہولتوں کی سپلائی ہوتی ہے یہ کیسے ممکن ہے؟ جیل میں بیٹھ کر وہ سیاسی قتل، اغواء، بھتہ کی وصولی کے احکامات دے رہا ہے۔ ایف بی آئی نے کہا ہیکہ لارنس کو کینیڈا کی حکومت نے ستمبر 2025ء میں دہشت گرد قرار دیا۔ پنجاب کے چیف منسٹر بھگونت سنگھ مان نے الزام عائد کیا تھا کہ امیت شاہ، بشنوئی کو جیل میں وی آئی پی سہولتیں دے رہے ہیں۔ کیا حکومت ہند اس بات سے انکار کرسکے گی کہ ہماری جیلوں سے کوئی نٹ ورک نہیں چل رہاہے۔ یہ گینگسٹر کسی عہدیدار کو رشوت نہیں دے رہے ہیں۔ ان تک کوئی فون نہیں پہنچ رہا ہے۔ وزیرداخلہ امیت شاہ سے سوال کون کرے گا اور کیا اس سوال کا جواب وہ دیں گے؟ ایک سوال آسام کے چیف منسٹر ہمنتا بسوا شرما سے بھی ہونا چاہئے کہ ان کی حکومت کی ناک کے نیچے سلچر کی سنٹرل جیل میں بندجگو بھگوان پوریہ، امریکہ، کینیڈا اور پاکستان میں کیسے نٹ ورک چلارہا ہے۔ ایف بی آئی نے بتایا کہ بھگوان پوریہ گینگ کے ایک ہزار سے زائد ارکان دنیا کے الگ الگ ملکوں میں کام کررہے ہیں۔ ایک ہزار سے زائد ارکان کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ اس انفارمیشن کے اثر کو آپ سمجھئے۔ بشنوئی کا پرانا ساتھی تھا لیکن دونوں کے درمیان فروری 2023ء میں ترن تارن کی جیل میں گینگ وار ہوگیا۔ گرداس پور کے جگو بھگوان پوریہ پر130 سے زائد معاملے درج ہیں۔ امریکہ کہہ رہا ہیکہ ہندوستان کی جیلوں میں بند ان ٹولیوں کے سرغنوں کو اٹھوا کر اپنی جیلوں میں لائے گا۔ ہندوستان کے ایک پولیس عہدیدار کی بھی وہ مانگ کررہا ہے۔ اب کیا بچے گا۔ ہندوستان کی پولیس کیا کررہی تھی۔ 2023ء میں ہی کینیڈا میں ہردیپ سنگھ نجر کا قتل ہوا۔ اسی سال نیویارک میں پنوں کے قتل کی ناکام کوشش کی گئی۔ تین سال سے 2023ء سے لیکر جولائی 2026ء کے درمیان حکومت ہند نے کیا اقدامات کئے۔ کیا پورے معاملے کو ٹالنے میں ہی لگی رہی اس کی وجہ سے ہندوستان اور کینیڈا کے تعلقات ایک طویل عرصہ کیلئے بگڑ گئے۔ تب بھی یہ حال ہے بنوں کے معاملہ میں حکومت ہند کے ساتھ کام کرنے والے ایک تاجر نکھیل گپتا کا بھی نام آیا ہے۔ خفیہ ایجنسی کے وکاس یادو کا نام بھی امریکہ نے لیا اور کہا کہ ان لوگوں نے پنوں کے قتل کیلئے کرایہ کے قاتل کو پیسے دیئے۔ ڈسمبر 2023ء میں وکاس یادو کو ہندوستانی پولیس نے گرفتار کیا تھا مگر اپریل 2024ء میں ضمانت مل گئی اس معاملہ میں سنوائی چل رہی ہے۔ ایسا صحافی سہاسنی حیدر نے اس کے وکیلوں کے بیانات کی بنیاد پر لکھا ہے۔ حکومت ہند اسے باغی انٹلیجنس عہدیدار مانتی ہے۔ سوال یہ ہیکہ اب کیا وکاس یادو کو بھی بشنوئی کے ساتھ ساتھ امریکہ کے حوالے کرنا پڑے گا۔ رائل کینڈین پولیس کی ڈپٹی کمشنر نے کہا ہیکہ جانچ میں ہندوستانی عہدیداروں کے شامل ہونے کے کوئی ثبوت نہیں ملتے پھر ٹورنٹو کا ایوان اس معاملہ میں مزید صفائی دینے یا وضاحت کرنے کا مطالبہ کررہا ہے۔ سکھ فیڈریشن، ورلڈ سکھ آرگنائزیشن نے کہا ہیکہ حکومت ہند کے ایجنٹس کو لیکر اٹھائے گئے سوالوں کے جواب ابھی تک نہیں ملے ہیں۔
اب چلتے ہیں امریکہ۔ ایران جنگ کی طرف، امریکہ نے ایران کے خلاف جنگ بندی ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ کہا ہیکہ اب بات چیت نہیں ہوگی۔ ٹرمپ کا اعلان ہندوستان پہنچا ہی تھا کہ دوپہر بعد شیر مارکٹ سے سرمایہ کاروں کو 8 لاکھ کروڑ روپئے سے زیادہ کا نقصان ہوگیا۔ سنسیکس 1677 پوائنٹس نیچے چلا گیا اور نفٹی 516 پوائنٹس گر گئی کیوکنہ ٹرمپ نے ایران کو تیل فروخت کرنے کی جو چھوٹ دی تھی اسے بھی ختم کردیا۔ اس کے ساتھ خام تیل کی قیمت پھر سے بڑھنے لگی۔ ٹرمپ داؤ تو غلط چلتے ہی ہیں داؤ چلنے کا وقت بھی غلط چنتے ہیں۔ 9 جولائی کو علی خامنہ ای کی مشہد میں تدفین ہوگی (یہ سطریں لکھنے تک ہوچکی ہوگی) کم از کم ایسے موقع پر ٹرمپ کو جنگ کی بات نہیں کرنی تھی۔ ہر وقت طاقت کے بل بوتے پر تاریخ بدل دینے کی بات کرنے والے ٹرمپ کو سمجھنا چاہئے کہ کئی بار تاریخ ساری طاقتوں کو ختم کردیتی ہے۔ ہرمز کو لیکر ایران اپنی دعویداری نہیں چھوڑنا چاہتا اور امریکہ ایسا سمجھ رہا ہیکہ 60 دنوں تک ہرمز پر ایران کا دعویٰ نہیں ہے۔ اس سے گزرنے کیلئے ٹینکر کو ایران سے رابطہ پیدا کرنے کی ضرورت نہیں۔ ایران ہرمز کے عمان راہداری سے جہازوں کو واپس بھیجنے لگا ہے۔ میڈیا میں رپورٹس ہیکہ ہندوستان کے ایک ٹینکر کو لوٹنے کیلئے کہا گیا ہے۔ جہازوں سے کہا جارہا ہیکہ ایران کے پانی سے ہی گزریں یہ بھی خبر آرہی ہیکہ ایران اور عمان مل کر ہرمز سے نکلنے والے جہازوں پر ٹول لگانے کے منصوبہ پر غور کررہے ہیں جس پر امریکہ نے اعتراض کیا۔