ٹلموک 2016 سے پنیر کی تیاری میں حلال اور کوشر (یہودی مذہبی اصولوں کے مطابق) طریقوں کا استعمال کر رہی ہے، لیکن حال ہی میں اس نے مخصوص لیبل کے ساتھ مصنوعات فروخت کرنا شروع کی ہیں۔
واشنگٹن: امریکہ کی ایک ڈیری کمپنی کو بائیکاٹ کا سامنا ہے؛ اس بائیکاٹ میں زیادہ تر وہ قدامت پسند افراد شامل ہیں جو کمپنی کی پنیر کی مصنوعات پر ‘حلال سرٹیفائیڈ’ (حلال ہونے کی تصدیق) کے لیبل کو دیکھ کر برہم ہوئے۔
الجزیرہ کی ایک رپورٹ کے مطابق، ٹلموک 2016 سے پنیر کی تیاری میں حلال اور کوشر طریقوں کا استعمال کر رہی ہے، لیکن حال ہی میں اس نے مخصوص لیبل کے ساتھ مصنوعات فروخت کرنا شروع کی ہیں۔ آن لائن، قدامت پسند اکاؤنٹس کی جانب سے پیکنگ کے بارے میں ویڈیوز پوسٹ کی جانے لگیں جن میں برانڈ کے حلال سرٹیفائیڈ پنیر کی نشاندہی کی گئی؛ کچھ صارفین نے اپنی ایسی ویڈیوز بھی بنائیں جن میں وہ ان مصنوعات کو کوڑے دان میں پھینکتے ہوئے دکھائی دیے۔
پنیر کا ٹکڑا ہاتھ میں تھامے ایک شخص کو اپنی ویڈیو میں یہ کہتے ہوئے سنا گیا: “امریکہ کے سب سے زیادہ فروخت ہونے والے پنیر برانڈز میں سے ایک اب اسلامی (طرز) کا ہو گیا ہے۔”
ایک اور شخص نے کہا: “کسی چیز پر قبضے (ٹیک اوور) کا آغاز اسی طرح ہوتا ہے۔ پہلے چھوٹے اقدامات، پھر بڑے اقدامات۔ اور پھر یہ کہنے میں بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے کہ آپ نے اس پر توجہ نہیں دی۔ پوسٹ کرنے والے اس صارف نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ لوگ اجتماعی طور پر ان کمپنیوں کا بائیکاٹ کریں جو اس “قبضے” کو ممکن بنا رہی ہیں۔
مسیحی پس منظر رکھنے والے دیگر انفلوئنسرز نے اپنے پیروکاروں کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ جانیں کہ “حلال سرٹیفائیڈ” کا اصل مطلب کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ذاتی طور پر حلال خوراک سے اجتناب برتتی ہیں اور “جہاں تک ممکن ہو حلال خوراک کی گاہک نہیں بنتیں۔”
الجزیرہ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکہ میں حلال مصنوعات کی صارفین مارکیٹ کا تخمینہ تقریباً 60 ارب امریکی ڈالر ہے۔ تاہم، کچھ امریکیوں نے امریکہ کے ایک بڑے برانڈ کی جانب سے حلال خوراک کی فروخت پر شدید ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے، یہاں تک کہ انہوں نے اسے “القاعدہ پنیر” کا نام بھی دے دیا ہے۔