امید پورٹل پر تلنگانہ وقف بورڈ کے موقف سے متولیان و سجادگان میں تشویش

   

مرکزی حکومت سے موقوفہ جائیدادوں کو اندرون چھ ماہ پورٹل پر درج کرنے کی مہلت

حیدرآباد۔20جولائی (سیاست نیوز) تلنگانہ ریاستی وقف بورڈکے UMEED پورٹل کے متعلق اختیار کردہ موقف نے ریاست کے متولیان و سجادگان کے علاوہ موقوفہ جائیدادوں کی انتظامی کمیٹیوں کو تشویش میں مبتلاء کیا ہوا ہے کیونکہ مرکزی حکومت کی جانب سے 6ماہ کی مہلت فراہم کرتے ہوئے موقوفہ جائیدادوں کو آن لائن پورٹل پر درج کروانے کی ہدایت دی گئی ہے لیکن تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ اس معاملہ میں مکمل طور پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے اور بورڈ کے اعلیٰ عہدیدار بورڈ کے ذمہ دار صدرنشین و اراکین اس معاملہ میں کوئی فیصلہ کرنے سے قاصر ہیں کیونکہ اکٹوبر 2024کے بعد سے اب تک بورڈ کا کوئی اجلاس منعقد نہیں ہوپایا ہے۔ تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ اور محکمہ اقلیتی بہبود حکومت تلنگانہ UMEEDپورٹل کے معاملہ میں اختیار کردہ موقف کے سلسلہ میں کچھ بھی کہنے یا کرنے سے بے بسی کا اظہار کرنے لگا ہے جبکہ ملک کی دیگر ریاستوں جیسے بنگال ‘ تمل ناڈو اور کرناٹک میں بورڈ کی کارکردگی معمول کے مطابق جاری ہے اور اس میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے لیکن تلنگانہ میں موجود عہدیداروں کی نااہلی اور من مانی فیصلوں کے نتیجہ میں بورڈ کی کارکردگی بری طرح متاثر ہوچکی ہے اور اُمید پورٹل پر موقوفہ جائیدادوں کے اندراج کے معاملہ میں کسی بھی طرح کی پہل یا اسے مسترد کرنے کے متعلق فیصلہ نہیں کیا جانا موقوفہ جائیدادوں کو تباہ کرنے کی منظم سازش تصور کیا جا رہاہے۔ بتایاجاتا ہے کہ تلنگانہ میں موجود 33ہزار 929 موقوفہ اداروں کے اندراجات کے سلسلہ میں درکار دستاویزات متولیوں اور انتظامی کمیٹیوں کو فراہم کرنے کے سلسلہ میں بورڈ کے عہدیدار رکاوٹ پیدا کرتے ہوئے یہ باور کروارہے ہیں کہ متولیوں کی جانب سے اُمید پورٹل پر اندراجات کے سلسلہ میں دلچسپی نہیں دکھائی جا رہی ہے جبکہ متولیان کی جانب سے فارم 3 کے تحت درخواستیں داخل کرتے ہوئے اپنے وقف اداروں کی مکمل تفصیلات حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جسے وقف بورڈ میں موجودنااہل عملہ ناکام بنانے میں مصروف ہے۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے متولیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اُمید پورٹل پر اندراجات کے معاملہ میں عجلت کا مظاہرہ نہ کریں اور مسلم پرسنل لاء بورڈ اس مسئلہ کو جلد ہی سپریم کورٹ میں چیالنج کرے گا۔تلنگانہ میں موجود وقف جائیدادوں کا ریکارڈ محض وقف بورڈ کے پاس نہیں بلکہ محکمہ آرکائیوز ‘ چیف کمشنر لینڈ اڈمنسٹریشن کے علاوہ ہندو انڈومنٹ کے دفاتر میں بھی موجود ہے اور اس ریکارڈ کو بھی طلب کرتے ہوئے وقف بورڈ میں محفوظ کرنے کے اقدامات ناگزیر ہیں لیکن اس معاملہ میں بھی عہدیداروں کی لاپرواہی کے نتیجہ میں CCLA‘ہندو انڈومنٹ اور آرکائیوز میں موجود وقف جائیدادوں کا ریکارڈ تباہ ہونے کا خدشہ ہے کیونکہ اگر ان اداروں سے وقف بورڈ ریکارڈ حاصل کرتے ہوئے ان کے مطابق اپنی جائیدادوں کے اندراج کو یقینی نہیں بناتا ہے تو ایسی صورت میں وہ جائیدادوں کا ریکارڈ جو ان اداروں میں کے پاس موجود ہے اس کا وقف جائیداد کے طورپر شمار نہیں ہوگا کیونکہ مرکزی حکومت نے پورٹل کی اجرائی کے ساتھ اس بات کا اعلان کیا ہے کہ اُمید پورٹل پر اندراجات کے ساتھ موقوفہ جائیدادوں کی جیو ٹیاگنگ کو بھی یقینی بنایا جائے گا اور جو جائیدادیں ایک مرتبہ اس پورٹل پر درج کردی جائیں گی وہ ہمیشہ کے لئے وقف جائیداد کے ریکارڈ میں شامل ہوجائیں گی اسی لئے یہ ضروری ہے کہ ریاست کے دیگر محکمہ جات و اداروں کے پاس جو وقف کا ریکارڈ موجود ہے اس کے حصول کے بھی فوری اقدامات کئے جائیں۔3