چیف منسٹر کو وعدہ کی یاددہانی، نظام آباد میں سابق وزیر پرشانت ریڈی کا بیان
نظام آباد: 27؍ستمبر(سیاست ڈسٹرکٹ نیوز)رکن اسمبلی بالکنڈہ و سابقہ ریاستی وزیر مسٹر پرشانت ریڈی نے اپنی قیام پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت کی جانب سے مقرر کردہ منیمم سپورٹ پرائز کے علاوہ ریاستی حکومت کی جانب سے اعلان کردہ 500 روپے بونس کسانوں کو فراہم کرنے کے لیے اقدامات کرنے مکئی، سویابین، دھان کی خریدی کرنے کا مطالبہ کیا۔ مسٹر پرشانت ریڈی نے کہا کہ چیف منسٹر مسٹر ریونت ریڈی نے بحیثیت صدر کانگریس تلنگانہ نے مرکزی حکومت کے اقل ترین قیمت پر 500 روپے زائد بونس دینے کا ورنگل ڈیکلریشن میں انتخابی منشور میں اعلان کیا تھا لیکن اس پر ابھی تک عمل نہیں کیا جا رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ متحد ہ ضلع نظام آباد میں مکئی کی پیداوار سب سے زیادہ کی جاتی ہے ،کسانوں نے چیف منسٹر کی بات پر بھروسہ کرتے ہوئے زائد کاشت کی ہے اور فصل کاٹنے کے لیے تیار ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سال 2024 میں مرکزی حکومت کی جانب سے 2225 کنٹل قیمت مقرر کی گئی ہے ریاست حکومت کی جانب سے بونس کے ساتھ 2725 روپئے قیمت پر خریدنے کا مطالبہ کیا مسٹر پرشانت ریڈی نے کہا کہ اگر حکومت اس قیمت پر اناج نہ خریدنے کی صورت میں کسانوں کو 400 تا 500 روپے کا نقصان ہوگا اگر کسی کسان کو پانچ ایکڑ زمین ہے تو اس کو 25 کنٹل کی پیداوار ہوگی اور اس کو 50 تا 60 ہزار روپے کا نقصان ہوگا، اس طرح ضلع نظام آباد میں 90 ہزار کسانوں کو نقصان ہوگا لہذا فوری خریدی مراکز قائم کرتے ہوئے اقل ترین قیمت پر خریدنے اور 500 روپے زائد بونس دینے کا مطالبہ کیا اسی طرح سویابین 5392 روپے کی قیمت پر خریدنے کا مطالبہ کیا اناج کی قیمت حکومت کی جانب سے جو مقرر کی گئی ہے اس پر زائد 500 روپے بونس دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کسانوں کو قرض معاف کا اعلان کیا تھا 15؍ اگست تک اس اسے مکمل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے اس سے انحرف کر لیا گیا متحد ضلع نظام آباد میں 3,79,000 کسانوں کے قرض معاف ہونا تھا لیکن صرف 1,75,000 کسانوں کے قرض معاف کیے گئے اور مزید دو لاکھ کسانوں کے قرض معاف ناگزیر قرار دیا۔ اس بارے میں بی آر ایس پارٹی کی جانب سے ضلع بھر میں احتجاجی پروگراموں کو انجام دینے کا ارادہ ظاہر کیا۔