انتخابات سے قبل آندھرا پردیش میں نشہ بندی کے نفاذ کا امکان

   

چندرا بابو نائیڈو آندھرا پردیش میں کامیابی سے مایوس، ڈپٹی اسپیکر اے پی اسمبلی کا تبصرہ
حیدرآباد۔/25 ڈسمبر، ( سیاست نیوز) آندھرا پردیش میں اسمبلی انتخابات سے قبل حکومت نشہ بندی کے نفاذ کے بارے میں فیصلہ کرسکتی ہے۔ ڈپٹی اسپیکر اے پی اسمبلی کے ویرابھدرا سوامی نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ریاست میں نشہ بندی کے نفاذ پر غور کررہی ہے۔ تمام زاویوں سے غور کرنے کے بعد اس سلسلہ میں فیصلہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر فیصلہ کرلیا جائے تو ریاست میں شراب کی جتنی بھی دکانات ہوں گی چاہے وہ سو ہوں یا پھر دس انہیں بند کردیا جائے گا۔ ریاست میں غیرقانونی شراب کی تیاری و فروخت کے واقعات میں اضافہ کو دیکھتے ہوئے حکومت نشہ بندی کے نفاذ کا جائزہ لے رہی ہے۔ خواتین کی تنظیموں نے حکومت سے نشہ بندی نافذ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ڈپٹی اسپیکر ویرابھدرا سوامی نے صدر تلگودیشم چندرا بابو نائیڈو کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ تلنگانہ میں چندرا بابو نائیڈو کی دلچسپی سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ آندھرا پردیش کے بارے میں مایوس ہوچکے ہیں۔ آئندہ انتخابات میں تلگودیشم کو موجودہ 26 نشستیں بھی دوبارہ حاصل نہیں ہوں گی لہذا چندرا بابونائیڈو نے تلنگانہ پر توجہ مبذول کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وباء کے دوران چندرا بابو نائیڈو آندھرا پردیش چھوڑ کر حیدرآباد میں قیام پذیر تھے لہذا انہیں کورونا کے بارے میں اظہار خیال کا حق حاصل نہیں ہے۔ نائیڈو نے پون کلیان سے مدد حاصل کرتے ہوئے اپنی اہمیت کو گھٹادیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا کے دو برسوں میں ریاست کو معاشی طور پر بھاری نقصان ہوا ہے۔ نقصانات کی پابجائی اور دیگر امکانات کا جائزہ لیتے ہوئے نشہ بندی کے بارے میں فیصلہ ہوگا۔ر