انتخابی مفاہمت سے متعلق بعض وزراء کے بیانات غیرذمہ دارانہ

   

بائیں بازو اور بی آر ایس میں مفاہمت کا اشارہ، سکریٹری سی پی آئی ویرا بھدرم کی وضاحت
حیدرآباد۔/7 فروری، ( سیاست نیوز) سی پی ایم کے ریاستی سکریٹری ٹی ویرا بھدرم نے بائیں بازوں جماعتوں کے ساتھ انتخابی مفاہمت کے بارے میں بعض ریاستی وزراء کے بیانات پر سخت اعتراض کیا۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ویرا بھدرم نے کہا کہ بعض وزراء میڈیا میں بیانات دے رہے ہیں کہ اسمبلی انتخابات میں کمیونسٹ جماعتوں کو مفاہمت کے تحت نشستیں الاٹ نہیں کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں انتخابی مفاہمت اور نشستوں کی تقسیم کے مسئلہ پر بات چیت جاری ہے۔ سی پی آئی اور سی پی ایم سے مفاہمت کو غیریقینی قرار دینے سے متعلق وزراء کے بیانات غیر ذمہ دارانہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مفاہمت کے بارے میں سی پی آئی سے عنقریب بات چیت کی جائے گی۔ ویرا بھدرم نے کہا کہ چیف منسٹر کے سی آر نے ضمنی چناؤ میں بائیں بازو جماعتوں کی تائید حاصل کی تھی اور انہوں نے اسمبلی انتخابات میں بائیں بازو جماعتوں سے مفاہمت کا اشارہ دیا تھا۔ ویربھدرم نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی نے بی آر ایس کے ارکان اسمبلی کو خریدنے کی کوشش کی تاکہ حکومت کو غیر مستحکم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ایک پارٹی سے منتخب ہوکر دوسری پارٹی میں شمولیت کی سی پی ایم مخالف ہے۔ پارٹی تبدیل کرنا ہو تو اسمبلی کی رکنیت سے استعفی دے کر نئی پارٹی کے ٹکٹ پر مقابلہ کرنا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ دیگر پارٹیوں سے انحراف کی حوصلہ افزائی کیلئے بی جے پی کی جانب سے ایک لیڈر کو ذمہ داری دی گئی جو بدبختانہ ہے۔ ویرا بھدرم نے کہا کہ بی جے پی کی مخالفت میں عنقریب سی پی ایم لائحہ عمل کا اعلان کرے گی۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ بی جے پی کے خلاف مقابلہ کرنے والی بی آر ایس کے ساتھ مل کر ان کی پارٹی کام کرے گی۔ انتخابات کے وقت مفاہمت کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی مفاہمت کے اظہار کا یہ مناسب وقت نہیں ہے، الیکشن آنے پر پارٹی فیصلہ کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ پالیر اسمبلی حلقہ سے مقابلہ کے بارے میں پارٹی فیصلہ کرے گی۔ پارٹی مجھے جس حلقہ سے ہدایت دے میں مقابلہ کیلئے تیار ہوں۔ر