انتخابی منشور سے نریندر مودی کی تصویر غائب،بی جے پی سے اتحاد تلگودیشم اور جناسینا کی مجبوری

   

حیدرآباد: 30 اپریل (سیاست نیوز) آندھراپردیش نے تلگودیشم اور جنا سینا کا بی جے پی سے اتحاد ایک مجبوری دکھائی دے رہا ہے۔ تینوں پارٹیوں نے اگرچہ اسمبلی اور لوک سبھا کی نشستوں پر مفاہمت کرلی ہے لیکن انتخابی منشور کی اجرائی کے موقع پر دونوں پارٹیوں نے بی جے پی کو کنارے پر رکھ دیا۔ انتخابی منشور اگرچہ تلگودیشم، جناسینا اور بی جے پی کا مشترکہ ہے لیکن منشور کی کاپی پر وزیراعظم نریندر مودی یا کسی اور بی جے پی لیڈر کی تصویر نہیں تھی۔ انتخابی منشور جسے پراجا گلم کا نام دیا گیا لیکن اجرائی کے موقع پر بی جے پی کے آندھراپردیش سے تعلق رکھنے والے قائدین دکھائی نہیں دیئے۔ بی جے پی کے انچارج آندھراپردیش سدھارتھ ناتھ سنگھ پریس کانفرنس میں موجود تھے لیکن انہوں نے انتخابی منشور ہاتھ میں نہیں لیا جبکہ چندرا بابو نائیڈو اور پون کلیان نے انتخابی منشور جاری کیا۔ وزیراعظم نریندر مودی یا آندھراپردیش کے کسی بی جے پی لیڈر کی تصویر نہ ہونے پر سیاسی حلقوں میں قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں کہ تینوں پارٹیوں کا اتحاد محض سیاسی مجبوری ہے اور الیکشن کے بعد یہ اتحاد باقی نہیں رہے گا۔ بی جے پی کو آندھراپردیش میں قدم جمانے کے لیے تلگودیشم اور جناسینا کی ضرورت ہے۔ 1