انجانی بیماریوں کے علاج سے متعلق پالیسی کے فوری نفاذ پر زور

   

ملک میں 8 ہزار سے زائد افراد متاثر، فی ماہ مصارف ایک لاکھ تا 50 لاکھ
نئی دہلی ۔ 27 ۔ اگست (سیاست ڈاٹ کام) انجانی بیماریوں کے علاج سے متعلق قومی پالیسی کے نفاذ پر ہونے والی تاخیر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مریضوں سے ہمدردی رکھنے والے بعض گروپوں نے مرکزی وزیر صحت سے درخواست کی ہے کہ وہ فوری کوئی عبوری اقدامات کرے تاکہ ایسی بیماریوں سے متاثرہ لوگوں کا علاج ممکن ہوسکے ۔ ا یسا انجانی بیماریوں کے علاج کی پا لیسی کی وکالت کرنے والی تنظیم (او آر ڈی آئی) اور ایل ایس ڈی ایس ایس نے مرکزی وزیر صحت ہرش وردھن کو ایک مکتوب روانہ کیا ہے جس م یں ان سے کہا گیا ہے کہ وہ ایسی انجانی بیمار یوں کے مریضوں کو کوئی قومی پالیسی وضع ہونے تک عبوری امداد فراہم کرے۔ وردھن نے حال ہی میں وزارت صحت کے افسروں کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ اس بیماری کے علاج کے طریقہ کار کی کھوج میں تیزی دکھائے ۔ 2017 ء میں ایسی بیما ریوں کے علاج کے لئے مرکز نے 100 کروڑ روپئے مختص کئے تھے ۔ تاہم گزشتہ سال نومبر میں وزارت صحت نے رقم کی اجرائی کو روک دیا اور کہا کہ فی ا لحال وزارت صحت کی توجہ چھوت سے پھیلنے والی اور وبائی بیماریوں پر مرکوز ہے ۔ اس وقت سے وزارت صحت نے اور دیگر لوگوں نے حکومت سے کئی نمائندگیاں کی ہیں ۔ ملک میں انجانی بیماریوں سے متاثر مریضوں کی تعداد 8 ہزار سے زائد ہے ۔ ان بیماریوں کی دواؤں کے ہر ماہ مصارف ایک لاکھ تا 50 لاکھ ہوتے ہیں ۔