انجینئرنگ کالجس فیس کی ادائیگی کے مسئلہ پر الجھن برقرار

   


تلنگانہ داخلہ اور فیس ریگولیٹری کمیٹی کا آج مسلسل دوسرے دن اجلاس ، حکومت کو پیش کی جائے گی رپورٹ
حیدرآباد ۔ 19 ۔ ستمبر : ( سیاست نیوز ) : انجینئرنگ فیس مقرر کرنے کے عمل میں غیر یقینی صورتحال پائی جاتی ہے ۔ پہلے مرحلے کی کونسلنگ میں نشستیں حاصل کرنے والے طلبہ آن لائن میں فیس داخل کرچکے ہیں ۔ ان طلبہ کو کالجس میں داخلوں کے لیے اضافہ شدہ فیس ادا کرنی پڑ رہی ہے ۔ اس تناظر میں تلنگانہ داخلہ اور فیس ریگولیٹری کمیٹی (TAFRC) نے فیس کو حتمی شکل دینے کے سلسلے میں کالجس سے دوبارہ مشاورت شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ جس کے تحت آج اور کل خصوصی اجلاس منعقد کئے جائیں گے ۔ دوسری جانب یہ بھی تنقیدیں کی جارہی ہے کہ حکومت اس معاملے میں سرکاری احکامات جاری کرنے پر توجہ نہیں دے رہی ہے ۔ واضح رہے کہ ریاست میں انجینئرنگ کی فیس ہر تین سال میں ایک مرتبہ طئے کی جاتی ہے ۔ اس طرح پہلے سے طئے شدہ فیس 2021-22 میں ختم ہوچکی ہے ۔ اس کے ساتھ اس سال آئندہ ( تین سال 2022-23 ، 2023-24 ، 2024-25 ) کے لیے نئی فیسیس کو قطعیت دی جانی ہے ۔ اس کے لیے تلنگانہ داخلہ اور فیس ریگولیٹری کمیٹی نے ماضی میں کالجس انتظامیہ کے نمائندوں کے ساتھ اجلاس منعقد کئے اور ان کی تجاویز کا جائزہ لیا ہے ۔ جس کے ساتھ مشاورت کا عمل مکمل ہوچکا ہے ۔ کالجس کی آمدنی اور اخراجات کے مطابق کتنی فیس مقرر کی جائے اس کو حتمی شکل دی جائے اس کا فیصلہ کرلیا گیا ہے ۔ کم از کم فیس 35 ہزار سے بڑھا کر 45 ہزار روپئے کرنے اور زیادہ سے زیادہ فیس 1.34 لاکھ روپئے سے بڑھا کر 1.73 لاکھ روپئے کرنے کی تجویز ہے ۔ تاہم کمیٹی نے یکم اگست کو منعقد ہوئے خصوصی اجلاس میں جاریہ تعلیمی سال فیس میں کوئی اضافہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا ۔ کمیٹی نے اس سلسلہ میں حکومت کو تجاویز بھی روانہ کئے ۔ اس کی اطلاع ملنے پر کئی کالجس عدالت سے رجوع ہوئے اور مجوزہ نئی فیسوں کو لاگو کرنے کی اجازت حاصل کی ۔ تاہم حکومت نے ابھی تک عدالتی احکامات کے مطابق کوئی فیصلہ نہیں کیا اور نہ ہی احکامات جاری کئے پہلے مرحلے کی ایمسیٹ کونسلنگ کے تحت طلبہ کو نشستیں مختص کی گئی ۔ بعد ازاں طلبہ نے آن لائن میں فیس بھی ادا کردیا ہے ۔ اضافہ شدہ فیس پر حکومت کے احکامات جاری نہ ہونے سے چند کالجس نے طلبہ سے عدالتی احکامات کا حوالہ دیتے ہوئے اضافہ شدہ فیس وصول کیا اور چند کالجس نے پرانی فیس وصول کی ہے ۔ 28 ستمبر سے دوسرے مرحلے کی کونسلنگ کا آغاز ہورہا ہے ۔ اس کے بعد مخلوعہ نشستوں کے لیے تیسرے مرحلے کی کونسلنگ کا آغاز ہوگا ۔ تب تک فیسوں میں نظر ثانی کے تعلق سے حکومت کوئی قطعی فیصلہ نہیں کرتی ہے تو عدالت نے جو فیس مقرر کرتے ہوئے احکامات جاری کئے ہیں ۔ طلبہ کو وہی فیس ادا کرنی ہوگی جو طلبہ اضافی شدہ فیس ادا نہیں کیا ہے انہیں نئی مقررہ فیس ادا کرنا ہوگا ۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ تقریبا 100 انجینئرنگ کالجس کو عدالت کے ذریعہ فیس میں اضافہ کرنے کی منظوری حاصل ہوئی ہے ۔ کمیٹی جو رپورٹ پیش کرے گی اس پر حکومت فیصلہ کرے گی ۔۔ ن