موسم کی طرح وائرس میں بھی تبدیلی، تشویش کی بات نہیں، ڈاکٹر رندیپ گلئیریاکا بیان
حیدرآباد۔/7مارچ، ( سیاست نیوز) ملک میں کورونا وائرس سے عوام میں خوف اگرچہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا لیکن دوسری طرف انفلوئنزا وائرس نے نیا خطرہ پیدا کردیا ہے۔ ملک بھر میں بخار اور کھانسی کے معاملات میں اچانک اضافہ کی اہم وجہ کے طور پر انفلوئنزا وائرس H3N2 کی شناخت کی گئی ہے۔ ماہرین نے عوام کو اس نئے وائرس سے بچاؤ کیلئے احتیاطی تدابیر اور خاص طور پر ماسک کے استعمال کا مشورہ دیا ہے۔ ایمس کے سابق ڈائرکٹر ڈاکٹر رندیپ گلئیریا نے نئے وائرس کے بارے میں کہا کہ یہ وائرس کووڈ 19 کی طرح پھیل رہا ہے۔ انفوائنزا وائرس جو کہ ہوا میں پھیلنے والی بوندوں سے پھیلتا ہے قوت مدافعت میں کمی والے افراد کو متاثر کرتا ہے جن میں زیادہ تر کم عمر بچے اور ضعیف العمر افراد ہوتے ہیں۔ انفلوئنزا نے عمر کی قید کے بغیر تمام افراد کو متاثر کیا ہے جس کی اہم وجہ قوت مدافعت کی کمی بتائی جاتی ہے۔ ایسے افراد جو پہلے سے مختلف عوارض کا شکار ہیں وہ باآسانی متاثر ہوسکتے ہیں۔ ملک میں H3N2 وائرس کے کیسس میں تیزی سے اضافہ پر تشویش کا اظہار کیا جارہا ہے۔ ہر سال موسم کی تبدیلی کے وقت وائرس بھی تبدیل ہوتا ہے۔ سابق میں H1N1 وائرس اب H3N2 میں تبدیل ہوچکا ہے۔ اس وائرس کے تحت انفیکشن سے بچاؤ فوری طور پر ممکن نہیں ہے۔ سابق ڈائرکٹر ایمس نے کہا کہ یہ وائرس بخار، کھانسی، گلے میں سوزش، گلے کی خراش، زکام جیسی علامتوں کے ساتھ ظاہر ہوتا ہے۔ یہ وائرس بوندوں کے ذریعہ باآسانی ایک دوسرے میں منتقل ہوسکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ فلو کی ایک عام قسم ہے تاہم وائرس اکثر تبدیلیوں سے گذرنے اور مدافعتی نظام میں کمی کے شکار افراد کو باآسانی متاثر کرسکتا ہے۔ ڈاکٹرس نے اگرچہ اس وائرس کو تشویشناک قرار دینے سے گریز کیا تاہم ان کا کہنا ہے کہ احتیاطی تدابیر اور مسلسل علاج کے ذریعہ گھر پر بھی شفاء یاب ہوسکتے ہیں۔ کیسس میں اضافہ کے باوجود ہاسپٹل میں شریک ہونے والوں کی تعداد میں اضافہ نہیں ہوا۔ ڈاکٹر گلئیریانے کہا کہ H3N2 وائرس اگرچہ کوویڈ کی طرح پھیل رہا ہے لہذا اسے بھی ماسک کے استعمال، جسمانی فاصلے کی برقراری جیسی تدابیر کے ذریعہ روکا جاسکتا ہے۔ کورونا کیسس میں کمی کے بعد اکثر یہ دیکھا گیا کہ لوگوں نے احتیاطی تدابیر کو فراموش کردیا۔ ڈاکٹر رندیپ گلئیریانے عوام کو ماسک کے استعمال اور صحت و صفائی پر توجہ دینے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ جس طرح کورونا وائرس سے ملک نے بہتر طور پر نجات پائی اسی طرح انفلوئنزا وائرس سے بچاؤ ممکن ہے بشرطیکہ عوام احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کریں۔ر