l سی ای سی گیانیش کمار کی برطرفی اور بیلٹ پیپر کی بحالی کا مطالبہ l 6 اکتوبر کو اپوزیشن ارکان پارلیمنٹ الیکشن کمیشن تک
مارچ کریں گے l 2 تا 8 اکتوبر ’’سیوو ڈیموکریسی‘‘ احتجاجی پروگرام، صدر کانگریس کھرگے کا اعلان
نئی دہلی، 30 ستمبر (ایجنسیز): ملک میں انتخابی فہرستوں کی خصوصی جامع نظرثانی (SIR) اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف جاری سیاسی تنازعہ کے درمیان اپوزیشن کے INDIA بلاک کی اہم میٹنگ آج نئی دہلی کے کانسٹی ٹیوشن کلب میں منعقد ہوئی۔ صدر کانگریس ملکارجن کھرگے، لوک سبھا میں قائد اپوزیشن راہول گاندھی، ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی، ابھیشیک بنرجی، آر جے ڈی کے تیجسوی یادو، نیشنل کانفرنس کے عمر عبداللہ، پی ڈی پی کی محبوبہ مفتی، این سی پی (ایس پی) کی سپریہ سولے اور بائیں بازو کی جماعتوں کے قائدین سمیت متعدد اپوزیشن جماعتوں کے نمائندوں نے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس میں انتخابی فہرستوں کی SIR مشق، الیکشن کمیشن کے طریقہ کار، چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی برطرفی کے مطالبہ اور اپوزیشن کے آئندہ مشترکہ احتجاجی پروگرام پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اپوزیشن جماعتوں نے انتخابی عمل اور ووٹر فہرستوں سے متعلق اپنے اعتراضات کو قومی سطح پر اٹھانے کے لیے مشترکہ حکمت عملی تیار کرنے کا فیصلہ کیا۔ اجلاس کے بعد کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے اعلان کیا کہ INDIA بلاک کی جماعتیں 2 سے 8 اکتوبر تک ’’سیو ڈیموکریسی‘‘ مارچ اور احتجاجی پروگرام منعقد کریں گی۔ ان پروگراموں میں نوجوانوں اور مختلف غیر سرکاری تنظیموں کو بھی شامل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ ضلعی سطح پر ضلع مجسٹریٹ کے دفاتر کے سامنے بھی احتجاج کیا جائے گا۔ کھرگے کے مطابق 6 اکتوبر کو اپوزیشن کے تمام ارکان پارلیمنٹ نئی دہلی میں الیکشن کمیشن تک مارچ کریں گے۔ اس کے علاوہ INDIA بلاک کے قائدین صدر جمہوریہ سے ملاقات کے لیے وقت طلب کریں گے اور اکتوبر کے دوسرے ہفتہ میں صدر جمہوریہ کے سامنے انتخابی فہرستوں اور الیکشن کمیشن سے متعلق اپوزیشن کے خدشات پیش کیے جائیں گے۔ اپوزیشن جماعتوں نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف پارلیمنٹ میں کارروائی کے امکانات پر بھی غور کیا۔ اس سے قبل اپوزیشن ارکان کی جانب سے گیانیش کمار کو عہدہ سے ہٹانے کے لیے پیش کردہ نوٹس مسترد ہوچکے ہیں، جبکہ راجیہ سبھا میں پیش کیا گیا ایک اور نوٹس زیرالتوا ہے۔ آئین کے آرٹیکل 324(5) کے تحت چیف الیکشن کمشنر کو عہدہ سے ہٹانے کا طریقہ کار سپریم کورٹ کے جج کی برطرفی کے طریقہ کار سے مربوط ہے۔ اجلاس ایسے وقت منعقد ہوا جب انتخابی کمیشن کے اندر SIR سے متعلق مبینہ اختلافات پر سیاسی تنازعہ شدت اختیار کرچکا ہے۔ رپورٹس کے مطابق الیکشن کمشنرس سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے بعض فیصلوں اور احکامات پر اختلاف ظاہر کیا تھا۔ اس معاملہ کو اپوزیشن نے انتخابی عمل کی شفافیت سے جوڑتے ہوئے حکومت اور الیکشن کمیشن سے وضاحت اور جوابدہی کا مطالبہ کیا ہے۔ کانگریس نے حالیہ دنوں میں SIR کے تحت ووٹر فہرستوں میں نام حذف کیے جانے پر بھی شدید اعتراضات ظاہر کیے ہیں۔ کانگریس کا دعویٰ ہے کہ بڑی تعداد میں ووٹرز کے نام فہرستوں سے حذف ہوئے ہیں اور اس نے حذف شدہ ناموں کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔