اکم پلی آبی ذخائر کی نگرانی کیلئے ڈرونز کا ا ستعمال

   

حیدرآباد ۔ 16 فبروری (سیاست نیوز) حیدرآباد، سکندرآباد اور نلگنڈہ ضلع میں پینے کے پانی کی فراہمی میں معاونت کرنے والے کلیدی ذرائع میں سے ایک اکم پلی آبی ذخائر کی نگرانی کیلئے ڈرونز کا استعمال شروع کیا گیا ہے۔ نلگنڈہ ضلع کلکٹر ایلا ترپاٹھی اور ان کے عملے نے صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے آبی ذخائر کا دورہ کیا۔ کلکٹر نے زور دیا کہ ایک ملٹی ڈسپلنری ٹیم تشکیل دی گئی ہے جس میں آبپاشی، پولیس، ریونیو، ویٹرنری اور واٹر ورکس محکموں کے نمائندے شامل ہیں۔ اس ٹیم کو ذخائر میں مردہ مرغیوں کے پائے جانے کے معاملے میں تحقیقات کیلئے تعینات کیا گیا۔ ابتدائی نتائج سے پتہ چلتا ہیکہ مرغیوں کو آبی ذخائر سے 9 کیلو میٹر دور واقع نہر میں پھینک دیا گیا تھا۔ مزید یہ واقعات نہ ہونے کیلئے آبی ذخائر کے اطراف ڈرون تعینات کئے گئے۔ یہ ڈرون رئیل ٹائم ڈیٹا فراہم کریں گے جس سے فوری کارروائی کرنے کا موقع ملے گا۔ اس آپریشن کی نگرانی کیلئے محکمہ واٹر ورکس کی ایک خصوصی ٹیم بھی تشکیل دی گئی ہے۔ پینے کے پانی کی سپلائی متاثر نہیں رہے گی کیونکہ آبی ذخائر سے پانی کی تقسیم کرنے سے پہلے تین مراحل میں فلٹر کے عمل سے گزرنا پڑتا ہے اس کے باوجود پانی کے نمونوں کی مسلسل جانچ کی جارہی ہے۔ ش