ہفتہ کو ہریانہ ، پنجاب اور بہار میں شدید احتجاج‘ ، یوپی میں بڑے پیمانے پر آ تشزنی اور توڑ پھوڑ
لکھنؤ: مرکزی حکومت کی فوج میں تقرری کے لئے اعلان شدہ نئی اسکیم اگنی پتھ کے خلاف ملک کی تقریباً 16ریاستوں میں نوجوانوں کے غصہ کی آگ بھرک اٹھی۔ برہم نوجوان اسکیم واپس لینے کا مطالبہ کررہے ہیں ۔ہریانہ ، مغربی بنگال ، پنجاب ، بہار کے علاوہ اترپردیش میں ہفتہ کو بھی پُرتشدد مظاہروں کا سلسلہ جاری رہا۔ شرپسند مظاہرین نے گاڑیوں میں آگ لگائی، پتھر بازی کی اور پولیس اہلکار کو زخمی کیا۔ وہیں سینئر پولیس افسران نے ایسے مظاہرین کے خلاف این ایس اے کا اطلاق کر کے نقصان کی تلافی کا انتباہ دیا ہے۔انسپکٹر جنرل آف پولیس ستیہ نارائن نے کہا پرتشدد مظاہرہ کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی اور انہیں گینگسٹر ایکٹ کے تحت گرفتار کیا جائے گا۔ وزیر دفاع راجناتھ سنگھ کے ذریعہ محکمہ دفاع میں 10فیصدی اسامیوں کو اگنی ویروں کے لئے ریزرو رکھنے کے اعلان کے بعد بھی اترپردیش کے مختلف شہروں میں پرتشدد مظاہروں کا سلسلہ تیسرے دن بھی جاری رہا۔پولیس نے بتایا کہ اترپردیش میں مرکزی حکومت کی اگنی پتھ اسکیم کے خلاف دوسرے دن بھی نوجوانوں سڑکوں پر نکلے اور گاڑیوں کو نقصان پہنچایا۔ صبح سے ہی سینکڑوں کی تعداد میں نوجوان سڑکوں پر اتر گئے۔ جونپور۔پریاگ راج ہائی وے پر سکرارا تھانہ علاقے کے لالا بازار واقع شیو غلام گنج سہ راہے پر مظاہرین نے دو روڈ ویز بس اور ایک پولیس کی گاڑی سمیت کئی گاڑیوں کو تبادہ کر دیا۔ بدلاپور میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان ایک کلومیٹر تک پتھراؤ ہوا۔ اس کے بعد مظاہرین شری کرشن نگر ریلوے اسٹیشن کی جانب چلے گئے۔عینی شاہدین کے مطابق تقریباً ایک کلومیٹر تک پرانی بازار گاؤں تک مظاہرین اور پولیس کے درمیان پتھراؤ کا دور چلا جس میں تھانہ انچارج مہاراج گنج سنتوش شکلا سمیت کئی لوگ زخمی بھی ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ تشدد میں ملوث تمام افراد کی شناخت کر کے انہیں گرفتار کیا جائے گا اور جیل بھیجا جائے گا۔ضلع چندولی میں مظاہرین نے علی نگر علاقے میں کچھمین ریلوے اسٹیشن پر توڑ پھوڑ کی اور پتھر بازی کی، جس میں کچھ پولیس اہلکار بشمول سب انسپکٹر زخمی ہوگئے۔ پولیس ذرائع نے بتایا کہ تقریباً 11بجے کچھ نوجوان کچھمین ریلوے اسٹیشن پہنچے اور ریلوے کراسنگ کے کیبن کو نقصان پہنچایا اور اندر رکھی اشیاء کو نکال کر ریلوے ٹریک پر پھینک دیا۔ بعد ازاں جی آر پی اور آر پی ایف نے بھیٹر کو منتشر کرنے کے لئے طاقت کا استعمال کیا۔ضلع مرزا پور میں بھی مظاہرین نے ڈویژنل کمشنر آفس کے نزدیک روڈ ویز بس پر پتھراؤ کیا جس کے بعد 8 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ تقریباً 11بجے50 تا 60 مظاہرین ڈاک گھر کی طرف سے آئے اور جن رتھ بس پر پتھربازی شروع کر دی۔ اس پتھراؤ میں کوئی بھی مسافر زخمی نہیں ہوا ہے۔ ضلع بدایوں میں مظاہرین نے ریلوے اسٹیشن پر مظاہرہ کرنے کی کوشش کی لیکن وہ ناکام رہا۔ سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) او پی سنگھ نے بتایا کہ اطلاعات ملی کہ کچھ افراد ریلوے اسٹیشن پر مظاہرے کے لئے آرہے ہیں۔ اطلاع ملتے ہیں پی اے سی، ریپڈ ایکشن فورس اور پولیس نفری کو فوراً تعینات کیا گیا اور میمورنڈم لینے کے بعد مظاہرین کو واپس بھیج دیا گیا۔