7 اگسٹ تک باقاعدہ اعلان، بی جے پی کے سرکردہ قائدین سے ربط میں
حیدرآباد۔/3 اگسٹ، ( سیاست نیوز) ریاستی وزیر پنچایت راج ای دیاکر راؤ کے گھر میں سیاسی اختلافات اس وقت رونما ہوئے جب دیاکر راؤ کے بھائی ای پردیپ راؤ نے ٹی آر ایس سے استعفی کا فیصلہ کیا ہے۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ای پردیپ راؤ نے جو ورنگل اربن کوآپریٹیو بینک کے سابق صدرنشین ہیں 7 اگسٹ تک استعفی کا اشارہ دیا ہے۔ تاہم انہوں نے وضاحت نہیں کی کہ کس پارٹی میں شمولیت اختیار کریں گے۔ پرجا راجیم کے ٹکٹ پر پردیپ راؤ نے اسمبلی الیکشن میں حصہ لیا تھا اور تلنگانہ تحریک کے آغاز کے بعد ٹی آر ایس سے وابستہ ہوگئے۔ انہیں شکایت ہے کہ دو مرتبہ اسمبلی ٹکٹ اور ایک مرتبہ کونسل کی رکنیت کا وعدہ پورا نہیں ہوا اور پارٹی میں انہیں نظرانداز کیا جارہا ہے۔ پردیپ راؤ نے کہا کہ بھائی کے وزیر ہونے کے باوجود وہ کارکنوں کیلئے کوئی بھی فائدہ پہنچانے سے قاصر ہیں اور پارٹی کو اب ان کی کوئی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ ان کا کہنا ہے کہ 7 اگسٹ تک وہ کسی اچھے وقت کا تعین کرتے ہوئے استعفی کا اعلان کریں گے۔ اپنے حامیوں سے مشاورت کے بعد وہ کس پارٹی میں شامل ہونا ہے طئے کریں گے۔ اسی دوران پردیپ راؤ کی حالیہ عرصہ میں بی جے پی کے تلنگانہ انچارج ترون چگ اور دیگر سینئر قائدین سے ملاقات کی اطلاعات گشت کررہی ہیں۔ انہوں نے اطلاعات کی تردید کی۔ بتایا جاتا ہے کہ بی جے پی اور کانگریس دونوں نے پردیپ راؤ کو آئندہ اسمبلی انتخابات میں ٹکٹ کا پیشکش کیا ہے۔ پردیپ راؤ نے تلنگانہ کے حقیقی جہد کاروں کو نظرانداز کرنے کی شکایت کی ہے۔ واضح رہے کہ تلنگانہ شیپ اینڈ گوٹ ڈیولپمنٹ کوآپریٹیو فیڈریشن کے صدرنشین ڈی راجیا یادو نے گزشتہ دنوں ٹی آر ایس سے استعفی کا اعلان کردیا۔ ورنگل کے سرکردہ قائدین میں شامل پردیپ راؤ اس وقت ٹی آر ایس میں شریک ہوئے جب دیاکر راؤ تلگودیشم میں تھے۔ ان کے کافی عرصہ کے بعد دیاکر راؤ ٹی آر ایس میں شامل ہوئے اور انہیں وزارت میں شامل کرلیا گیا۔ ر