تہران : تہران میں سوئس سفیر پر جمعرات کو ایران میں احتجاجی تحریک کو دھوکہ دینے کا الزام لگایا گیا جب سفیرہ نے ایرانی علما کے ہمراہ ایک مذہبی مقام کے دورے کے دوران سیاہ چادر اور اسکارف پہن لیا۔سوئس وزارت خارجہ نے اس تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ خاتون سفیر نادین اولیویری لوزانو نے مذہبی مقام پر جانے کے لیے پروٹوکول کے مطابق مناسب لباس پہنا ہوا تھا۔ اس سے قبل ایرانی میڈیا نے شہر قم کے دورے کے دوران پگڑی والے علما کے ساتھ سیاہ چادر پہنے لوزانو کی تصاویر شائع کی تھیں۔ یہ دورہ 16 ستمبر کو 22 سالہ ایرانی کرد خاتون مہسا امینی کی موت کے پانچ ماہ بعد ہو رہا ہے۔ مہسا امینی کو حجاب نہ کرنے پر اخلاقی پولیس نے حراست میں لیا تھا اور دوران حراست ہی اس کی موت ہوگئی تھی۔