تہران ۔ 9 جون (ایجنسیز) ایران میں پانی کا بحران خطرناک حد تک شدت اختیار کر گیا ہے جہاں مسلسل خشک سالی، کم ہوتی بارشیں، زیرِ زمین پانی کے بے دریغ استعمال اور ناقص آبی انتظام نے ملک کو شدید آبی دباؤ سے دوچار کر دیا ہے۔ الجزیرہ کی خصوصی رپورٹ کے مطابق حالیہ امریکہ اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے دوران پانی سے متعلق شہری تنصیبات کو پہنچنے والے نقصان نے بھی صورتِ حال مزید خراب کر دی ہے۔ عالمی وسائل انسٹی ٹیوٹ کے مطابق ایران دنیا کے اْن ممالک میں شامل ہے جہاں آبی دباؤ انتہائی بلند سطح پر ہے اور ملک ہر سال اپنی قابلِ تجدید آبی صلاحیت کا 80 فیصد سے زیادہ استعمال کر رہا ہے۔ شمال مغربی ایران میں واقع مشرقِ وسطیٰ کی سب سے بڑی نمکین جھیل ارومیہ 1990ء کی دہائی میں تقریباً 6000 مربع کلومیٹر رقبہ پر پھیلی ہوئی تھی تاہم اب اس کا رقبہ گھٹ کر صرف 581 مربع کلومیٹر رہ گیا ہے جو اس کے اصل حجم کا 10 فیصد سے بھی کم ہے۔ الجزیرہ کے مطابق مسلسل خشک سالی، زرعی مقاصد کے لیے پانی کا بے تحاشا استعمال، دریاؤں کا رْخ موڑنے، زیرِ زمین پانی نکالنے اور 60 سے زائد بند تعمیر ہونے کے باعث جھیل میں پانی کی آمد شدید متاثر ہوئی جبکہ بڑھتے درجہ حرارت نے بخارات کے عمل کو تیز کر دیا۔